🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. باب وعيد من اقتطع حق مسلم بيمين فاجرة بالنار:
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 139 ترقیم شاملہ: -- 358
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو عاصم الحنفي وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي، كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي، أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِك؟ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ".
سماک نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضرمی (حضر موت کے باشندے) نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری زمین پر قبضہ کیے بیٹھا ہے جو میرے باپ کی تھی۔ اور کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس (زمین) میں کوئی حق نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: کیا تمہاری کوئی دلیل (گواہی وغیرہ) ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر تمہارے لیے اس کی قسم ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ یہ آدمی بدکردار ہے، اسے کوئی پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے اور یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا: تمہیں اس سے اس (قسم) کے سوا کچھ نہیں مل سکتا۔ وہ قسم کھانے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اگر اس نے ظلم اور زیادتی سے اس شخص کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو بلاشبہ یہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ نے اس سے اپنا رخ پھیر لیا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 358]
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں: کہ ایک حضر موت کا آدمی اور ایک کندہ کا آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میری، میرے باپ کی طرف سے زمین پر قبضہ کر بیٹھا ہے۔ تو کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میرے قبضہ میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کچھ حق نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: کیا تیرے پاس گواہ ہے؟ اس نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے قسم لے سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آدمی بدکار ہے، اسے کوئی پروا نہیں کس قسم کی قسم اٹھاتا ہے، کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے اس کے سوا کچھ نہیں لے سکتے۔ وہ قسم اٹھانے لگا، تو جب قسم کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اللہ کی قسم! اگر اس نے ظلماً اس کا مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی، تو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الايمان والنذور، باب: التغليظ في الايمان الفاجرة برقم (3245) وفي الاقضية، باب: الرجل يحلف على علمه فيما غاب عنه برقم (3623) والنسائي في ((جامعه)) في الاحکام، باب: ما جاء فى ان البينة على المدعى واليمين على المدعى عليه۔ وقال: حديث وائل بن حجر۔ وقال: حسن صحيح - برقم (1340) انظر ((التحفة)) برقم (11768)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 139 ترقیم شاملہ: -- 359
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ، قَالَ: بَيِّنَتُكَ؟ قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: يَمِينُهُ؟ قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ.
زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابوولید سے حدیث سنائی (زہیر نے «عن أبی الولید» کے بجائے «حدثنا هشام بن عبدالملك» ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی، کہا) ہشام بن عبدالملک نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے (اپنے والد) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ کے پاس دو آدمی (ایک قطعہ) زمین پر جھگڑتے آئے، دونوں میں ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے دور جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا تھا، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپ نے فرمایا: (سب سے پہلے) تمہارا ثبوت (شہادت)؟ اس نے کہا: میرے پاس ثبوت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: (تب فیصلہ) اس کی قسم (پر ہو گا) اس نے کہا: تب تو وہ زمین لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا: اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں (دوسرے فریق کا نام) ربیعہ بن عیدان (باء کے بجائے یاء کے ساتھ) بتایا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 359]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک زمین کا تنازع لائے، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جاہلیت کے دور میں میری زمین پر قبضہ کر لیا۔ (وہ امرء القیس بن عابس کندی تھا، اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی مطلوب ہے۔ اس نے کہا: میرے پاس شہادت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فیصلہ اس کی قسم پر ہو گا۔ اس نے کہا: اس صورت میں وہ میری زمین لے جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قسم ہی لے سکتے ہو۔ تو جب وہ قسم اٹھانے کے لیے اٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھینی، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔ اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں ربیعہ بن عبدان کا نام لیا (زہیر رحمہ اللہ نے عبدان باء کے ساتھ کہا تھا اور اسحاق رحمہ اللہ نے یاء (عیدان) کے ساتھ)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (356)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں