صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب تحريم ابنة الاخ من الرضاعة:
باب: رضاعی بھتیجی کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1447 ترقیم شاملہ: -- 3583
وحدثنا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حدثنا هَمَّامٌ ، حدثنا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ، فقَالَ: " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ ".
ہمام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قتادہ نے جابر بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی (کے ساتھ نکاح کرنے) کے بارے میں خواہش کا اظہار کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو رحم (ولادت اور نسب) سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3583]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی سے نکاح کر لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میرے لیے جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے اور رضاعت سے وہ رشتہ حرام ہو جاتا ہے جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3583]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1447
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1447 ترقیم شاملہ: -- 3584
وحدثناه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِهْرَانَ الْقُطَعِيُّ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، كِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ، بِإِسْنَادِ هَمَّامٍ سَوَاءً، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ شُعْبَةَ انْتَهَى عَنْدَ قَوْلِهِ: ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ، وَفِي رِوَايَةِ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ.
یحییٰ قطان اور بشر بن عمر نے شعبہ سے حدیث بیان کی، شعبہ اور سعید بن ابی عروبہ دونوں نے قتادہ سے ہمام کی (سابقہ) سند کے ساتھ بالکل اسی طرح روایت کی، مگر شعبہ کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: ”میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ پر ختم ہو گئی اور سعید کی حدیث میں ہے: ”رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ اور بشر بن عمر کی روایت میں (جابر بن زید سے روایت ہے کی بجائے یہ) ہے: ”میں نے جابر بن زید سے سنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3584]
امام صاحب اپنے تین مختلف اساتذہ کی سند سے ہمام کی مذکورہ سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں مگر شعبہ کی حدیث آپ کے اس قول پر ختم ہو گئی ہے ”وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔“ اور سعید کی روایت میں ہے ”واقعہ یہ ہے رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“ (ہمام کی روایت میں نسب کی جگہ رحم کا لفظ ہے) اور بشر بن عمر کی روایت میں قتادہ نے سماع کی تصریح کی ہے۔ قتادہ مدلس راوی ہے اس لیے اس کا عنعنہ معتبر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الرضاع/حدیث: 3584]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1447
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة