صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة وتحريمه في غير ذلك إلا ثلاثة ايام:
باب: سوگ واجب ہے اس عورت پر جس کا خاوند مر جائے اور کسی حالت میں تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3725
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَت زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ، أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَت: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان (حمید) کو یہ تین حدیثیں بیان کیں، کہا: زینب نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں ان کے ہاں گئی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ ملی مخلوط یا کوئی اور خوشبو منگوائی، اس میں سے (پہلے) ایک بچی کو لگائی (تاکہ ہاتھ پر اس کی مقدار بہت کم ہو جائے)، پھر اپنے رخساروں پر ہاتھ مل لیا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند پر، چار ماہ دس دن (سوگ منائے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3725]
حمید بن نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اسے یہ تین احادیث بیان کیں، حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے باپ ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہا فوت ہوئے تو میں ان کے پاس گئی، ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی، وہ خلوق تھی یا کوئی اور، اور ایک بچی کو لگائی، پھر اپنے رخساروں پر ہاتھ مل لیا، پھر فرمایا، اللہ کی قسم! مجھے خوشبو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر بات یہ ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے، مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3725]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3729
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت: تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ ، فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا، وَقَالَت: إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا "،
حمید بن نافع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، انہوں نے کہا: ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا کوئی انتہائی قریبی عزیز فوت ہو گیا۔ انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے ہلکا سا اپنے (رخسار اور) بازوؤں پر لگایا، اور کہا: میں اس لیے ایسا کر رہی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ (کسی مرنے والے پر) تین دن سے زیادہ سوگ منائے، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن (سوگ منائے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3729]
حضرت زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کا کوئی عزیز فوت ہو گیا۔ تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر ملا، اور فرمایا: میں یہ اس کے لیے کر رہی ہوں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زائد سوگ منائے، مگر شوہر پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3729]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1486 ترقیم شاملہ: -- 3734
وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَت: لَمَّا أَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَت: كُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس (ان کے والد) ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ہلکا سا لگایا اور کہا: مجھے اس کی ضرورت نہ تھی، (مگر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ (کسی مرنے والے پر) تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3734]
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، جب حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ملا اور فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خاوند فوت ہو چکا ہے، جس کے لیے زینت کرنی ہوتی ہے)۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ”جو عورت اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے تین دن سے زائد سوگ کرنا جائز نہیں ہے، مگر خاوند پر وہ چار ماہ دس دن سوگ کرے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطلاق/حدیث: 3734]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة