Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا:
باب: تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا حرام ہے مگر عریہ میں درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3893
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ "، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا ".
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد (کھجور کے تازہ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی (یا تولی ہوئی) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی (یا تولی ہوئی) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3893]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ کھجوروں کے پھل کو خشک کھجوروں کے ناپ سے اور انگوروں کو منقہ سے ناپ کر بیچنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3893]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا، وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا ".
محمد بن بشیر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور (خوشوں میں) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3894]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے، کھجوروں کے پھل کو خشک کھجور کے ناپ سے بیچنا، انگوروں کو منقہ کے ناپ سے بیچنا، گندم کی کھیتی کو گندم کے ناپ سے بیچنا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3894]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3895
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3895]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3895]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3896
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ ".
ابواسامہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے (تازہ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر (اسی طرح) فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3896]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ، کھجور کا پھل چھوہاروں سے ناپ کر بیچنا، انگوروں کو منقہ کے عوض ناپ کر بیچنا اور ہر پھل کو اندازہ کر کے (اس کی جنس سے) بیچنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3896]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3897
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ: الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمَّى، إِنْ زَادَ فَلِي، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3897]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درخت پر پھل کو متعین ناپ کے عوض بیچا جائے کہ اگر درخت کا پھل زیادہ ہوا تو میرا ہو گا، کم ہو گا تو میرا نقصان ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3897]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3898
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3898]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3898]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3899
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ، إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ: أَوْ كَانَ زَرْعًا.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا (مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب (سودوں) سے منع فرمایا۔ قتیبہ کی روایت میں (وان کان زرعا اور اگر کھیتی ہو کے بجائے) یا کھیتی ہو کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3899]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منع فرمایا، یعنی اپنے باغ کے درخت پر پھل کو، اگر کھجور ہے تو چھوہارے کے ناپ سے بیچنا، اور اگر انگور ہے تو منقہ کے ناپ سے بیچنا اور اگر کھیتی ہے تو غلہ کے ناپ سے بیچنا، ان تمام صورتوں سے منع فرمایا، قتیبہ کی روایت میں، إن کانَ زَرعاً [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3899]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1542 ترقیم شاملہ: -- 3900
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ . ح وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
یونس، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان (عبیداللہ، ایوب اور لیث) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3900]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3900]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں