صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب اخذ الحلال وترك الشبهات:
باب: حلال کو حاصل کرنے اور شبہ والی اشیاء کو چھوڑنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَأَهْوَى النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ "،
عبداللہ بن نمیر ہمدانی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زکریا نے شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (شعبی نے) کہا: میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،۔۔ اور حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا۔۔ آپ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہات ہیں لوگوں کی بڑی تعداد ان کو نہیں جانتی، جو شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو بچا لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا، جیسے چرواہا (جو) چراگاہ کے اردگرد (بکریاں) چراتا ہے، قریب ہے وہ اس (چراگاہ) میں چرنے لگیں، دیکھو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہے۔ دھیان رکھو! اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ سنو! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، اگر ٹھیک رہا تو سارا جسم ٹھیک رہا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ سنو! وہ دل ہے۔“ (سوچ اور نیت سے ہر عمل کی درستی ہے یا خرابی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4094]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں ہیں، جن کو بہت لوگ نہیں (یعنی ان کے حکم کو) جانتے (کہ حلال ہیں یا حرام) تو جو انسان مشتبہ یا شبہ والی چیزوں سے بچ گیا، اس نے دپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا، اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑ گیا، وہ حرام میں مبتلا ہو گا، اس چرواہے کی طرح جو چراگاہ کے آس پاس جانور چراتا ہے، قریب ہے وہ اس میں ڈال لے یا اس میں گھس جائے، خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہے، خبردار، اللہ تعالیٰ کی چراگاہ، اس کی زمین میں، اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور سنو، بدن انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو گیا، تو سارا بدن ٹھیک ہو گیا، سنور گیا، اور جب وہ بگڑ گیا، تو پورا جسم بگڑ گیا، سنو! وہ ٹکڑا دل ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4094]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4095
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے زکریا سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4095]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ کی سند سے زکریا کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4095]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4096
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَأَبِى فَرْوَةَ الهمداني . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَكَرِيَّاءَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَكْثَرُ،
مطرف، ابوفروہ ہمدانی اور عبدالرحمان بن سعید سب نے شعبی رحمہ اللہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی، مگر زکریا کی حدیث ان سب کی حدیث کی نسبت مکمل اور تفصیلات میں زیادہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4096]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن زکریاء کی روایت زیادہ کامل اور زائد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4096]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1599 ترقیم شاملہ: -- 4097
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ " فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَكَرِيَّاءَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَى قَوْلِهِ يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ.
عون بن عبداللہ نے عامر شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، اس وقت وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے۔۔۔“ آگے شعبی سے زکریا کی روایت کردہ حدیث کے مانند ان کے قول: ”قریب ہے کہ وہ اس میں پڑ جائے“ تک بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4097]
امام عامر شعبی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نعمان بن بشیر بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے حمص میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے، ”حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے،“ آگے زکریا کی امام شعبی سے يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4097]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1599
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة