Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ندب من حلف يمينا فراى غيرها خيرا منها ان ياتي الذي هو خير ويكفر عن يمينه:
باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4263
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوَ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ".
غیلان بن جریر نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا۔ ہم آپ سے سواری کے طلبگار تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس (کوئی سواری) ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ کہا: جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے، پھر (آپ کے پاس) اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم چلے، ہم نے کہا: یا ہم نے ایک دوسرے سے کہا۔۔ اللہ ہمیں برکت نہیں دے گا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی، پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی، چنانچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، بلکہ اللہ نے تمہیں سواری مہیا کی ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ چاہے، میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر (کسی دوسرے کام کو) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4263]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری طلب کرنے کی خاطر حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا، کیونکہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے، جس پر تمہیں سوار کروں۔ ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا، ہم ٹھہرے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹ لائے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین (جوڑے) سفید کوہان والے اونٹ دینے کا حکم دیا، تو جب ہم لے کر چلے، ہم نے کہا، یا ہم میں سے بعض نے بعض کو کہا، اللہ ہمارے لیے برکت پیدا نہیں فرمائے گا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سواریوں کے حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری دے دی ہے، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں سوار نہیں کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں سوار کیا ہے، اور میں اللہ کی قسم! ان شاءاللہ، کسی چیز پر نہیں اٹھاتا کہ پھر اس کا خلاف کرنا بہتر سمجھوں، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں، اور وہ کام کرتا ہوں جو بہتر ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4263]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4264
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمُ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ، وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ، فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَى أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ، أَوَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ فَارْكَبُوهُنَّ، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي بِهِنَّ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُكُمْ حَتَّى يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُكُمْ إِلَى مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَكُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ إِنَّكَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ، فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّى أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا، قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ، ثُمَّ إِعْطَاءَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَى سَوَاءً ".
برید نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ سے ان کے لیے سواریاں مانگوں، (یہ اس موقع کی بات ہے) جب وہ آپ کے ساتھ جیش العسرۃ میں تھے۔۔ اور اس سے مراد غزوہ تبوک ہے۔۔ تو میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ انہیں سواریاں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا۔ اور میں ایسے وقت آپ کے پاس گیا تھا کہ آپ غصے میں تھے اور مجھے معلوم نہ تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے اور اس ڈر سے کہ آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں، غمگین واپس ہوا۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، انہیں بتایا۔ میں نے ایک چھوٹی سی گھڑی ہی گزاری ہو گی کہ اچانک میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ پکار رہے تھے: اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ، وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دو اکٹھے بندھے ہوئے اونٹ لے لو، یہ جوڑا اور یہ جوڑا بھی لے لو۔۔ (چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا جو آپ نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے تھے۔۔) اور انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو: اللہ تعالیٰ۔۔ یا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔ تمہیں یہ سواریاں مہیا کر رہے ہیں، ان پر سواری کرو۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ اس آدمی کے پاس جائے جس نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تھی جب میں نے آپ سے تمہارے لیے سوال کیا تھا، اور پہلی مرتبہ آپ کے منع کرنے اور اس کے بعد مجھے عطا کرنے کی بات بھی سنی تھی، مبادا تم سمجھو کہ میں نے تمہیں ایسی بات بتائی ہے جو آپ نے نہیں فرمائی۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور جو آپ کو پسند ہے وہ بھی ہم ضرور کریں گے، چنانچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو ساتھ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور آپ کے انکار کرنے کے بعد عطا کرنے کے بارے میں خود سنا تھا۔ انہوں نے بالکل وہی بات کی جو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (اپنے) لوگوں کو بتائی تھی۔ فائدہ: اس حدیث میں واقعے کے پہلے حصے کی زیادہ تفصیل بیان کی گئی ہے جبکہ آخری حصے کی تفصیل پچھلی حدیث میں ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ساتھیوں نے بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا، پھر بلا کر اونٹ عطا فرمائے، پھر یہ لوگ ان لوگوں کے پاس گئے جو سارے واقعے کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے، پھر یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قسم والی بات بتائی۔ اس پر آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث میں مذکور ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4264]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں نے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگنے کے لیے بھیجا، کیونکہ وہ بھی تنگی کی جنگ یعنی غزوہ تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، تو میں نے عرض کیا، اے اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ انہیں بھی سواریاں دیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی قسم! میں تمہیں کوئی سواری مہیا نہیں کروں گا۔ اور میں آپ کو اس وقت ملا جبکہ آپ غصہ میں تھے، اور مجھے اس کا پتہ یا علم نہیں تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محروم کر دینے اور اس خوف سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جی میں مجھ پر ناراض ہو گئے ہیں، غمگین حالت میں لوٹا اور میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا، اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، میں نے انہیں بتا دیا، میں بہت تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا، کہ میں نے بلال کو یہ آواز دیتے ہوئے سنا، اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا، تو اس نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو وہ تمہیں بلا رہے ہو، تو جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جوڑا لو، اور یہ جوڑا لو، اور یہ جوڑا لو، چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا، جو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے خریدے تھے، انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ، اور کہو، اللہ یا آپ نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں، تو ان پر سوار ہو جاؤ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کی طرف آ گیا، اور میں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں، لیکن، اللہ کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا، جب تک تم میں سے بعض میرے ساتھ، ان اشخاص کے پاس نہیں جاتے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اس وقت سنی تھی، جب میں نے آپ سے تمہاری خاطر (سواریوں کا) سوال کیا تھا، اور آپ نے پہلی دفعہ محروم کر دیا تھا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سواریاں دے دیں، تاکہ تم یہ خیال نہ کرو، میں نے تمہیں ایسی بات بتائی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی تھی، تو انہوں نے مجھے کہا، اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں، اور ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، جو آپ کو پسند ہے، تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ ان میں سے چند ساتھیوں کو لے چلے حتی کہ وہ ان لوگوں کے پاس آئے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اور انہیں محروم کرنا اور پھر بعد میں انہیں دینا سنا تھا، تو انہوں نے انہیں بالکل وہی بات بتائی جو انہیں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4264]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4265
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَعَنْ الْقَاسِمِ بن عاصم ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى ، فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ، فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ فَتَلَكَّأَ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، فَقَالَ: الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُحَدِّثْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَكُ لَنَا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ وَإِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "،
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی۔۔ ایوب نے کہا: ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے۔۔ انہوں (زہدم) نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا، اتنے میں بنو تیم اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا، تو انہوں نے اس سے کہا: آؤ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا: آؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (مرغی کے گوشت) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس آدمی نے کہا: میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس (کے گوشت) کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ اس پر انہوں نے کہا: آؤ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کافروں سے) چھینے ہوئے اونٹ (جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ (یا چھ، حدیث: 4264) اونٹ دینے کا حکم دیا۔ کہا: جب ہم چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا: (غالباً) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا، ہمیں برکت نہ دی جائے گی، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور (قسم کا کفارہ ادا کر کے) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں۔ تم جاؤ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4265]
حضرت زہدم جرمی بیان کرتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا، اس پر مرغ کا گوشت بھی تھا، تو بنو تیم اللہ کا ایک سرخ آدمی جو موالی کے مشابہ تھا، داخل ہوا، تو ابو موسیٰ نے اسے کہا، آؤ، وہ ہچکچایا تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے (مرغ کو) کھاتے ہوئے دیکھا ہے، تو اس آدمی نے کہا، میں نے اسے ایک ایسی چیز کھاتے دیکھا ہے، جس کی بنا پر میں اسے ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں اسے نہیں کھاؤں گا، تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، آؤ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ (یعنی ان کے کہنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواریاں چاہتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا، اور میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم جتنی دیر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ٹھہرے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلوایا، اور ہمیں پانچ اونٹ سفید کوہانوں والے دینے کا حکم دیا، ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، جب ہم چل پڑے، تو ایک دوسرے کو کہنے لگے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے بے خبر رکھا، (قسم یاد نہیں دلائی) اس لیے یہ ہمارے لیے باعث برکت نہیں ہوں گے، تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے، اور ہم نے کہا، اے اللہ کے رسول! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے آئے، اور آپ نے قسم اٹھا دی، کہ آپ ہمیں سوار نہیں کریں گے، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں، کیا آپ (قسم) بھول گئے ہیں؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! ان شاءاللہ، کسی چیز پر قسم نہیں اٹھاتا، کہ اس کی مخالفت کرنا بہتر خیال کروں، تو میں وہ کام کرتا ہوں، جو بہتر ہو، اور قسم کو کفارہ دے کر حلال کر لیتا ہوں، اس لیے جاؤ، کیونکہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے سوار کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4265]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4266
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: جرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا، ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔۔ (آگے) اسی کے ہم معنی بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4266]
حضرت زہدم جرمی بیان کرتے ہیں کہ بنو جرم کے خاندان اور اشعریوں کے درمیان محبت اور اخوت کا رشتہ تھا، اس لیے ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھے کہ انہیں کھانا پیش کیا گیا، جس میں مرغ کا گوشت تھا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4266]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4267
اسماعیل بن علیہ، سفیان اور وہیب، سب نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔۔ ان سب نے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4267]
امام صاحب اپنے پانچ اساتذہ کی تین سندوں سے، زھدم جرمی کی روایت بیان کرتے ہیں۔ تمام اساتذہ نے حماد بن زید کی حدیث نمبر 9 کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4267]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4268
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا.
مطروراق نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہدم جرمی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔۔ انہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس (اپنی قسم) کو نہیں بھولا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4268]
زہدم جرمی بیان کرتے ہیں، میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا، اور وہ مرغ کا گوشت کھا رہے تھے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی قسم! بھولا نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4268]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4269
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى، فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "،
جریر نے ہمیں سلیمان تیمی سے خبر دی، انہوں نے ضرب بن نقیر قیسی سے، انہوں نے زہدم سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف سفید کوہان والے تین (جوڑے) اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی، چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو (آپ کی قسم کے بارے میں) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا، پھر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4269]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین جوڑے اونٹ سفید کوہانوں والے بھیجے، تو ہم نے دل میں کہا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سوار نہ کرنے کی قسم اٹھائی، اس لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کسی چیز پر قسم نہیں اٹھاتا، کہ جس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھوں، مگر پھر میں بہتر کام ہی کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4269]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1649 ترقیم شاملہ: -- 4270
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كُنَّا مُشَاةً، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
معتمر نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہمیں ابوسلیل (ضریب) نے زہدم سے حدیث بیان کی، وہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہم پیدل تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم آپ سے سواریاں حاصل کرنا چاہتے تھے، (آگے اسی طرح ہے) جس طرح جریر کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4270]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم پیدل چل رہے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریوں کے لیے حاضر ہوئے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة/حدیث: 4270]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1649
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں