صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب إطعام المملوك مما ياكل وإلباسه مما يلبس ولا يكلفه ما يغلبه:
باب: غلام کو وہی کھلاؤ اور پہناؤ جو خود کھاتے اور پیتے ہو اور ان کو طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دو۔
ترقیم عبدالباقی: 1661 ترقیم شاملہ: -- 4313
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، فَقُلْنَا يَا أَبَا ذَرٍّ: لَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا كَانَتْ حُلَّةً، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِي كَلَامٌ وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ سَبَّ الرِّجَالَ سَبُّوا أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ هُمْ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ "،
وکیع نے کہا: ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم زَبذہ (کے مقام) میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے گزرے، ان (کے جسم) پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام (کے جسم) پر بھی ویسی ہی چادر تھی۔ تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ ان دونوں (چادروں) کو اکٹھا کر لیتے تو یہ ایک حلہ بن جاتا۔ انہوں نے کہا: میرے اور میرے کسی (مسلمان) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کر دی، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ نے فرمایا: ”ابوذر! تم ایسے آدمی ہو کہ تم میں جاہلیت (کی عادت موجود) ہے۔“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! جو دوسروں کو برا بھلا کہتا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کو برا بھلا کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ابوذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے، وہ (چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے) تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے، تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو، اگر ان پر (مشکل کام کی) ذمہ داری ڈالو تو ان کی اعانت کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4313]
حضرت معرور بن سوید بیان کرتے ہیں کہ ہم ربذہ مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی، اور ان کے غلام پر ویسی ہی چادر تھی، تو ہم نے کہا، اے ابوذر! اگر تم ان دونوں چادروں کو اکٹھا کر لیتے، تو یہ جوڑا بن جاتا، تو انہوں نے جواب دیا، واقعہ یہ ہے کہ میرے اور میرے ایک مسلمان بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اس کی والدہ عجمی تھی، میں نے اسے اس کی ماں کی عار دلائی، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کی، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت کی بو ہے۔“ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! جو لوگوں کو برا بھلا کہتا ہے، لوگ اس کے باپ اور ماں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تو ایسا انسان ہے، جس میں جاہلیت کی عادت موجود ہے، وہ تمہارے بھائی ہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے تمہارا زیردست (محکوم) بنایا ہے، تو انہیں وہی کھلاؤ، جو خود کھاتے ہو، وہ پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور انہیں ایسے کام کا مکلف نہ ٹھہراؤ، جو ان کے لیے دشوار اور بھاری ہو، اور اگر انہیں ایسے کام کا مکلف ٹھہراؤ، تو ان کی مدد کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4313]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1661 ترقیم شاملہ: -- 4314
وحَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَوْلِهِ: إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَى حَالِ سَاعَتِي مِنَ الْكِبَرِ، قَالَ: نَعَمْ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ نَعَمْ عَلَى حَالِ سَاعَتِكَ مِنَ الْكِبَرِ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيَبِعْهُ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَلْيَبِعْهُ وَلَا فَلْيُعِنْهُ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ.
زہیر، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، زہیر اور ابومعاویہ کی حدیث میں آپ کے فرمان: ”تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے“ کے بعد یہ اضافہ ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی (جاہلیت کی عادت باقی ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابومعاویہ کی روایت میں ہے: ”ہاں، تمہارے بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی۔“ عیسیٰ کی حدیث میں ہے: ”اگر وہ اس پر ایسی ذمہ داری ڈال دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے تو (بہتر ہے) اسے بیچ دے۔“ (غلام پر ظلم کے گناہ سے بچ جائے۔) زہیر کی حدیث میں ہے: ”تو وہ اس (کام) میں اس کی اعانت کرے۔“ ابومعاویہ کی حدیث میں وہ اسے بیچ دے اور وہ اس کی اعانت کرے کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی حدیث آپ کے فرمان: اس پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالے جو اس کے بس سے باہر ہو پر ختم ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4314]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے، اعمش کی مذکورہ بالا سند ہی سے بیان کرتے ہیں، زہیر اور ابو معاویہ کی روایت میں ان الفاظ کے بعد کہ ”تو ایسا انسان ہے، جس میں جاہلیت کی خصلت ہے۔“ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ جواب ہے، کہ بڑھاپے کی اس حالت میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ابو معاویہ کی روایت میں ہے، ”ہاں۔ تیرے بڑھاپے کی گھڑی میں بھی۔“ اور عیسیٰ کی روایت میں ہے، ”تو اس کی مدد کرے۔“ ابو معاویہ کی روایت میں، ”اس کو بیچنے یا اس کی مدد کرنے کا۔“ ذکر نہیں ہے، اس کی روایت بیان ختم ہو گئی ہے، ”اس کی قدرت سے زائد ذمہ داری نہ ڈالے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4314]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1661 ترقیم شاملہ: -- 4315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: " فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ، قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُكُمْ وَخَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ ".
واصل احدب نے معرور بن سوید سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ ان (کے جسم) پر (آدھا) حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کا (آدھا) حلہ تھا، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، کہا: تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں انہوں نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں (کے عجمی ہونے) کی (بنا پر) عار دلائی، کہا: تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت (کی خو) ہے، وہ تمہارے بھائی اور خدمت گزار ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے، تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے اسی کھانے میں سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی لباس پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ان کے ذمے ایسا کام نہ لگاؤ جو ان کے بس سے باہر ہو اور اگر تم ان کے ذمے لگاؤ تو اس پر ان کی اعانت کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4315]
حضرت معرور بن سوید بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے، اور ان کے غلام کا جوڑا بھی ویسا ہی تھا، تو میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا؟ انہوں نے بتایا، میں نے ایک آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تلخ کلامی کی، اور اسے اس کی ماں کی عار دلائی، حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسے فرد ہو، جس میں جاہلیت کی بو ہے، تمہارے بھائی (غلام) اور تمہارے نوکر چاکر، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے زیردست و محکوم کیا ہے، تو جس کا بھائی اس کا ماتحت ہو تو اسے وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے، اور وہی پہنائے جو خود پہنتا ہے، اور انہیں ایسی چیز کا مکلف نہ ٹھہرائے جس کے کرنے سے وہ بےبس ہوں اور اگر انہیں اس کا مکلف ٹھہراؤ، تو اس پر ان کی مدد کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4315]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1661
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة