🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
77. باب معنى قول الله عز وجل: {ولقد رآه نزلة اخرى} وهل راى النبي صلى الله عليه وسلم ربه ليلة الإسراء:
باب: اس باب میں یہ بیان ہے کہ «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سے کیا مراد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالیٰ جل جلالہ کو معراج کی رات میں دیکھا تھا یا نہیں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 174 ترقیم شاملہ: -- 432
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
عباد بن عوام نے کہا: ہمیں شیبانی نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے۔ زر نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 432]
شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے زر بن حبیش رحمہ اللہ سے اللہ عز و جل کے قول: «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ» وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو آیا، بلکہ اس کے قریب تر۔ اس نے جواب دیا، مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا: بلا شبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا اس کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 432]
ترقیم فوادعبدالباقی: 174
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التفسير، باب: ﴿ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ﴾ برقم (4856) وفي، باب: ﴿ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ﴾ برقم (4857) وفى بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم آمين والملائكة فى السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3232) والترمذي في ((جـامـعـه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة النجم وقال: هذا حديث حسن غریب صحيح - برقم (3277) انظر ((التحفة)) برقم (9205)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 174 ترقیم شاملہ: -- 433
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
حفص بن غیاث نے شیبانی سے حدیث سنائی، انہوں نے زر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے آیت: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» جھوٹ نہ دیکھا دل نے، جو دیکھا پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 433]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ» دل نے جھوٹ نہیں بولا اس نے دیکھا بھی اس میں جھوٹ کی آمیزش نہیں کی انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا اس کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 433]
ترقیم فوادعبدالباقی: 174
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (431)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 174 ترقیم شاملہ: -- 434
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18، قَالَ: " رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ".
شعبہ نے سلیمان شیبانی سے حدیث بیان کی، انہوں نے زر بن حبیش سے سنا، کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت: «وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ» اور آپ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں پڑھی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو ان کی (اصل) صورت میں دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 434]
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں «لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰ» آپ نے یقیناً اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں منقول ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو اس کی اصل صورت میں دیکھا، اس کے چھ سو پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 434]
ترقیم فوادعبدالباقی: 174
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (431)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں