صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب الصائل على نفس الإنسان او عضوه إذا دفعه المصول عليه فاتلف نفسه او عضوه لا ضمان عليه:
باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
ترقیم عبدالباقی: 1674 ترقیم شاملہ: -- 4369
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى " أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَى ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ، فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ: أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".
بدیل نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے صفوان بن یعلیٰ سے روایت کی کہ یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کا ایک ملازم تھا کسی آدمی نے اس کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس کا سامنے والا دانت گر گیا، معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا گیا تو آپ نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”تم چاہتے تھے کہ اسے (اس کی کلائی کو اس طرح) چبا ڈالو جس طرح سانڈ چناتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4369]
حضرت صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ یعلیٰ بن منیہ کے اجیر کا ایک آدمی نے ہاتھ (کلائی) چبایا، تو اس نے اسے کھینچ لیا، جس سے کاٹنے والے کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو رائیگاں قرار دیا، اور فرمایا: ”تو نے چاہا اس کو چباتا رہے، جس طرح اونٹ چباتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4369]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1674
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1674 ترقیم شاملہ: -- 4371
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ، قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء نے صفوان بن یعلیٰ بن منیہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ پر دانتوں سے کاٹا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس، یعنی جس نے کاٹا تھا، کے سامنے والے دو دانت نکل گئے، کہا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رائیگاں قرار دیا اور فرمایا: ”تم یہ چاہتے تھے کہ اسے اس طرح چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4371]
حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور وہ ایک دوسرے آدمی کا ہاتھ چبا چکا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا، جس کی بنا پر (کاٹنے والے) کے دونوں سامنے کے دانت گر گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کو رائیگاں قرار دیا، اور فرمایا: ”تو نے چاہا، اس کا ہاتھ چباتے رہتا، جس طرح سانڈھ یا اونٹ چباتا ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4371]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1674
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1674 ترقیم شاملہ: -- 4372
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي، فَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ صَفْوَانُ: قَالَ يَعْلَى: كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ، قَالَ: لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ، فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ "،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے عطاء نے خبر دی، کہا: مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی، کہا: اور حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: وہ غزوہ میرے نزدیک میرا سب سے قابلِ اعتماد عمل ہے۔ عطاء نے کہا: صفوان نے کہا: یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ایک ملازم تھا، وہ کسی انسان سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا۔۔ کہا: مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ ان میں سے کس نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تھا۔۔ جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانتوں میں سے ایک نکال دیا، اس پر وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے دانت (کے نقصان) کو رائیگاں قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4372]
حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں جنگ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، اور یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے، یہ غزوہ میرے نزدیک سب عملوں میں زیادہ وثوق و اعتماد کے لائق ہے، عطاء کہتے ہیں، صفوان نے کہا، یعلیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا، میرا ایک اجیر (نوکر) تھا، اس نے دوسرے انسان سے لڑائی کی، تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا، (عطاء کہتے ہیں، صفوان نے مجھے بتایا تھا، ان میں سے کس نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا تھا) جس کا ہاتھ چبایا جا رہا تھا، اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، اور اس کے سامنے کے دانتوں میں سے ایک دانت نکل گیا، تو وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ثنیہ کا کوئی تاوان نہ ڈالا۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4372]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1674
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1674 ترقیم شاملہ: -- 4373
وحَدَّثَنَاه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اسماعیل بن ابراہیم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4373]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1674
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة