صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
81. باب معرفة طريق الرؤية:
باب: اللہ کے دیدار کی کیفیت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 451
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، " أَنَّ نَاسًا، قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذَلِكَ، يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ، فَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ، وَيَتَّبِعُ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ، وَتَبْقَى هَذِهِ الأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، هَذَا مَكَانُنَا حَتَّى يَأْتِيَنَا رَبُّنَا، فَإِذَا جَاءَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ، فَيَأْتِيهِمُ اللَّهُ تَعَالَى فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَبُّنَا، فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَنَا، وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَى الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ، وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، هَلْ رَأَيْتُمُ السَّعْدَانَ؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمُ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ، وَمِنْهُمُ الْمُجَازَى حَتَّى يُنَجَّى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ، مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْكُلُ النَّارُ مِنَ ابْنِ آدَمَ، إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ وَقَدِ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَى مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَى النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ، فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا، فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ بِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ، وَمَوَاثِيقَ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَآهَا، سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ، أَنْ يَسْكُتَ ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ، وَمَوَاثِيقَكَ، لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ، أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ؟ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ، وَمَوَاثِيقَ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، فَرَأَى مَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ، فَيَسْكُتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ؟ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَكَ، وَمَوَاثِيقَكَ، أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ، وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَغْدَرَكَ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ، حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ اللَّهُ مِنْهُ، قَالَ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَهَا، قَالَ اللَّهُ لَهُ: تَمَنَّهْ، فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّى، حَتَّى إِنَّ اللَّهَ لَيُذَكِّرُهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ "، قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّ اللَّهَ، قَالَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِكَ لَكَ، وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَذَلِكَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ.
یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: میرے والد نے ہمیں ابن شہاب زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پورے چاند کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”جب بادل حائل نہ ہوں تو کیا سورج دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت محسوس ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”تم اسے (اللہ) اسی طرح دیکھو گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: ’جو شخص جس چیز کی عبادت کرتا تھا اسی کے پیچھے چلا جائے،‘ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا، جو چاند کی پرستش کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے گا اور جو طاغوتوں (شیطانوں، بتوں وغیرہ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوت کے پیچھے چلا جائے گا اور صرف یہ امت، اپنے منافقوں سمیت، باقی رہ جائے گی۔ اس پر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے پاس اپنی اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچان نہیں سکتے ہوں گے، پھر فرمائے گا: ’میں تمہارا رب ہوں۔‘ وہ کہیں گے: ’ہم تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اسی جگہ ٹھہرے رہیں گے یہاں تک کہ ہمارا رب ہمارے پاس آ جائے، جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے۔‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اس کو پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا: ’میں تمہارا پروردگار ہوں۔‘ وہ کہیں گے: ’تو (ہی) ہمارا رب ہے‘ اور اس کے ساتھ ہو جائیں گے، پھر (پل) صراط جہنم کے درمیانی حصے پر رکھ دیا جائے گا تو میں اور میری امت سب سے پہلے ہوں گے جو اس سے گزریں گے۔ اس دن رسولوں کے سوا کوئی بول نہ سکے گا۔ اور رسولوں کی پکار (بھی) اس دن یہی ہو گی: ’اے اللہ! سلامت رکھ، سلامت رکھ۔‘ اور دوزخ میں سعدان کے کانٹوں کی طرح مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے، کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟“ صحابہ نے جواب دیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”وہ (آنکڑے) سعدان کے کانٹوں کی طرح کے ہوں گے لیکن وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ چکانے کے لیے پکڑیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور ارادہ فرمائے گا کہ اپنی رحمت سے جن دوزخیوں کو چاہتا ہے، آگ سے نکالے تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ ان لوگوں میں سے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، ’لا إله إلا الله‘ کہنے والوں میں سے جن پر اللہ تعالیٰ رحمت کرنا چاہے گا انہیں آگ سے نکال لیں۔ فرشتے ان کو آگ میں پہچان لیں گے۔ وہ انہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے۔ آگ سجدے کے نشانات کے سوا، آدم کے بیٹے (کی ہر چیز) کو کھا جائے گی۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے، چنانچہ وہ اس حال میں آگ سے نکالے جائیں گے کہ جل کر کوئلہ بن گئے ہوں گے، ان پر آب حیات ڈالا جائے گا تو وہ اس کے ذریعے سے اس طرح اگ آئیں گے، جیسے سیلاب کی لائی ہوئی مٹی میں گھاس کا بیج پھوٹ کر اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا۔ بس ایک شخص باقی ہو گا، جس نے آگ کی طرف منہ کیا ہوا ہو گا، یہی آدمی، تمام اہل جنت میں سے، جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: ’اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے کیونکہ اس کی بدبو نے میری سانسوں میں زہر بھر دیا ہے اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے،‘ چنانچہ جب تک اللہ کو منظور ہو گا، وہ اللہ کو پکارتا رہے گا پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: ’کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں تمہارے ساتھ یہ (حسن سلوک) کر دوں تو تم کچھ اور مانگنا شروع کر دو گے؟‘ وہ عرض کرے گا: ’میں تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا۔‘ وہ اپنے رب عزوجل کو جو عہد و پیمان وہ (لینا) چاہے گا، دے گا، تو اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو جتنی دیر اللہ چاہے گا کہ وہ چپ رہے (اتنی دیر) چپ رہے گا، پھر کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے تک آگے کر دے،‘ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: ’کیا تم نے عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تمہیں عطا کر دیا ہے اس کے سوا مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے؟ تجھ پر افسوس ہے! اے ابن آدم! تم کس قدر عہد شکن ہو!‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب!‘ اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا حتی کہ اللہ اس سے کہے گا: ’کیا ایسا ہو گا کہ اگر میں نے تمہیں یہ عطا کر دیا تو اس کے بعد تو اور کچھ مانگنا شروع کر دے گا؟‘ وہ کہے گا: ’تیری عزت کی قسم! (اور کچھ) نہیں (مانگوں گا۔)‘ وہ اپنے رب کو، جو اللہ چاہے گا، عہد و پیمان دے گا، اس پر اللہ اسے جنت کے دروازے تک آگے کر دے گا، پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو گا تو جنت اس کے سامنے کھل جائے گی۔ اس میں جو خیر اور سرور ہے وہ اس کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھے گا۔ تو جب تک اللہ کو منظور ہو گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: ’اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے،‘ تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: ’کیا تو نے پختہ عہد و پیمان نہ کیے تھے کہ جو کچھ تجھے دے دیا گیا ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا؟ ابن آدم تجھ پر افسوس! تو کتنا بڑا وعدہ شکن ہے۔‘ وہ کہے گا: ’اے میرے رب! میں تیری مخلوق کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص نہ بنوں،‘ وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا رہے گا حتی کہ اللہ عزوجل اس پر ہنسے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہنسے گا (تو) فرمائے گا: ’جنت میں داخل ہو جا۔‘ جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’تمنا کر!‘ تو وہ اپنے رب سے مانگے گا اور تمنا کرے گا یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا: ’فلاں چیز (مانگ) فلاں چیز (مانگ)‘ حتی کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔‘“ عطاء بن یزید نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، انہوں نے ان کی کسی بات کی تردید نہ کی لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا: ”یہ سب کچھ تیرا ہوا اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی“ تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اے ابوہریرہ! اس کے ساتھ اس سے دس گنا (اور بھی)،“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے تو آپ کا یہی فرمان یاد ہے: ’یہ سب کچھ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔‘“ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر آپ کا یہ فرمان یاد ہے: ’یہ سب تیرا ہوا اور اس سے دس گنا اور بھی۔‘“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخری شخص ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 451]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ پائیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودھویں کا چاند دیکھنے میں (اژدحام کی وجہ سے) ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سورج کو، جب اس کے ورے بادل حائل نہ ہوں، دیکھنے میں ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کو بھی اسی طرح (بغیر تکلیف و دشواری کے) دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرے گا، پھر فرمائے گا: جو کسی کی بندگی کرتا تھا وہ اسی کے ساتھ ہو جائے۔ پھر جو شخص سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا، جو چاند کی پرستش کرتا تھا اسی کے ساتھ ہو جائے گا، اور جو طاغوتوں (غیر اللہ) کی پوجا کرتا تھا وہ طاغوتوں کے ساتھ ہو جائے گا، اور یہ امت رہ جائے گی، اس میں اس کے منافق بھی ہوں گے، تو ان کے پاس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے نہیں ہوں گے اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اسی جگہ ٹھہریں گے، یہاں تک کہ ہمارے پاس ہمارا رب آ جائے۔ جب ہمارا رب آ جائے گا، تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس میں وہ اسے پہچان لیں گے اور فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ کہیں گے: تو ہی ہمارا رب ہے، اور وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے۔ پھر جہنم کی پشت پر پل صراط رکھا جائے گا، تو میں اور میری امت سب سے پہلے اس سے گزریں گے، اور رسولوں کے سوا اس دن کسی کو کلام کی جرات نہ ہو گی۔ اور رسولوں کی پکار اس دن یہی ہو گی: اے اللہ! سلامتی دے! سلامتی دے! اور دوزخ میں سعدان (ایک خاردار جھاڑی) کے کانٹوں کی طرح لوہے کے مڑے ہوئے سروں والے آنکڑے ہوں گے (جن پر گوشت بھونا جاتا ہے)۔ کیا تم نے سعدان جھاڑی کو دیکھا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آنکڑے سعدان کے کانٹوں جیسے ہوں گے، لیکن ان کی جسامت کی مقدار کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، وہ لوگوں کو ان کے بد اعمال کی بنا پر اچک لیں گے۔ ان میں سے بعض اپنے عملوں کے سبب ہلاک ہوں گے اور بعض کے ٹکڑے کر دیے جائیں گے، پھر وہ نجات پا جائیں گے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا، اور اپنی رحمت سے دوزخیوں میں سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا، تو وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ان لوگوں کو آگ سے نکال دیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ رحمت کرنا چاہے گا، جو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہتے تھے، فرشتے انہیں آگ میں پہچان لیں گے، وہ انہیں سجدوں کے نشان سے پہچانیں گے۔ آگ ابن آدم کے جسم کو سجدوں کے نشان کے سوا ہر جگہ سے کھا جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آگ پر سجدے کے نشان کو جلانا حرام قرار دیا ہے۔ وہ آگ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا، تو وہ اس سے اس طرح اگیں گے جس طرح دانہ سیلاب کے کوڑے کرکٹ (بہاؤ کے ساتھ آنے والی مٹی) میں اگتا ہے۔ (یعنی بہت جلد ترو تازہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے) پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہو جائے گا، اور ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ آگ کی طرف ہوگا، اور یہی جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میرا چہرہ آگ سے پھیر دے، کیونکہ اس کی بدبو نے مجھے پریشان کر دیا ہے (یا میری شکل و صورت بدل دی ہے) اور اس کی تپش نے مجھے جلا ڈالا ہے۔ وہ اللہ سے دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ کو منظور ہوگا، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں، تو کیا تو اس کے علاوہ بھی کوئی سوال کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: میں تجھ سے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کروں گا، اور وہ اپنے رب کو ہر طرح کے عہد و پیمان دے گا۔ پھر اللہ اس کا چہرہ دوزخ سے پھیر دے گا۔ جب وہ جنت کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کی شادابی دیکھے گا، تو جب تک اللہ چاہے گا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے اپنے پختہ عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ میں نے تجھے دیا ہے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کرے گا؟ اے آدم کے بیٹے! تو کس قدر بے وفا ہے! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! اور اللہ سے دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا: اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں، تو شاید تو کچھ اور مانگنے لگے؟ وہ عرض کرے گا: تیری عزت کی قسم! اب اور کچھ نہیں مانگوں گا، اور وہ اپنے رب کو ہر طرح کے عہد و پیمان دے گا۔ پھر اللہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ جب وہ وہاں کھڑا ہوگا، تو جنت اس کے لیے کھل جائے گی اور وہ اس کی نعمتوں اور رونقوں کو دیکھے گا، تو جب تک اللہ کو منظور ہوگا وہ خاموش رہے گا، پھر کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے! تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نے اپنے پختہ عہد و پیمان نہیں دیے تھے کہ جو کچھ تجھے دیا گیا ہے اس کے سوا نہیں مانگے گا؟ اے ابن آدم! تجھ پر افسوس ہے، تو کس قدر عہد شکن ہے! وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ رہوں۔ وہ اللہ عزوجل سے مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا، اور جب اللہ تعالیٰ ہنس دے گا، تو فرمائے گا: جنت میں داخل ہو جا! جب وہ اس میں داخل ہو جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اب تمنا کر! تو وہ اپنے رب سے سوال کرے گا اور تمنائیں کرے گا، یہاں تک کہ اللہ اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز کی تمنا کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ سب کچھ تیرے لیے ہے اور اتنا ہی مزید اور بھی۔“ عطاء بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے اور وہ ان کی اس حدیث کی کسی بات کی تردید نہیں کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا: ”یہ سب کچھ تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی“ تو حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اور اس کے ساتھ اس سے دس گنا مزید، اے ابوہریرہ! حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی الفاظ یاد ہیں: ”تیرے لیے یہ سب کچھ ہے اور اتنا ہی مزید اور بھی۔“ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول یاد ہے: ”تجھے یہ سب کچھ حاصل ہے اور اس سے دس گنا مزید۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور یہ آدمی جنت میں داخل ہونے والا آخری فرد ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 451]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7437) وفى الرقاق، باب: الصراط جسر جهنم برقم (6573) مطولا والنسائي في ((المجتبى)) 229/2 في التطبيق، باب: موضع السجود باختصار - انظر ((التحفة)) برقم (14213)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 452
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أن أبا هريرة أخبرهما، أن الناس، قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
شعیب نے ابن شہاب زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا: عطاء اور سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو خبر دی کہ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ .....آگے ابراہیم بن سعد کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 452]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟ آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الاذان، باب: فضل السجود برقم (806) مطولا، وأخرجه في الرقاق، باب: الصراط جسر جهنم برقم (6573) مطولا - انظر ((التحفة)) برقم (1351)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 182 ترقیم شاملہ: -- 453
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، أَنْ يَقُولَ: لَهُ تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سن کر) بیان کیں، پھر (ہمام نے) بہت سی احادیث بیان کیں، ان میں یہ حدیث بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی جنت میں کم از کم جگہ یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: ’تمنا کر۔‘ تو وہ تمنا کرے گا، پھر تمنا کرے گا، اللہ اس سے پوچھے گا: ’کیا تم تمنا کر چکے؟‘ وہ کہے گا: ’ہاں۔‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’وہ سب کچھ تیرا ہوا جس کی تو نے تمنا کی اور اس کے ساتھ اتنا ہی (اور بھی۔)‘“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 453]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ایک کی جنت میں کم از کم جگہ یہ ہے (کم درجہ کا جنتی وہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: آرزو کر! تو وہ تمنا کرے گا اور تمنا کرے گا، تو اللہ اس سے پوچھے گا: کیا تو نے آرزو کر لی ہے؟ وہ کہے گا: ہاں! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی تو نے تمنا کی اور اتنا ہی اور۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 182
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14741)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة