🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب استحقاق القاتل سلب القتيل:
باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1753 ترقیم شاملہ: -- 4570
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرَادَ سَلَبَهُ، فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لِخَالِدٍ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ؟، قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ادْفَعْهُ إِلَيْهِ، فَمَرَّ خَالِدٌ، بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ: لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ، هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا، فَشَرَعَتْ فِيهِ، فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ "،
معاویہ بن صالح نے عبدالرحمان بن جبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حمیر کے ایک آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کا سلب (مقتول کا سازوسامان) لینا چاہا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کر دیا اور وہ ان پر امیر تھے، چنانچہ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ (اپنے حمیری ساتھی کی حمایت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے خالد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تمہیں اس کے مقتول کا سامان اسے دینے سے کیا امر مانع ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: وہ (سامان) ان کے حوالے کر دو۔ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حضرت عوف رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان کی چادر کھینچی اور کہا: کیا میں نے پورا کر دیا جو میں نے آپ کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن لی تو آپ کو غصہ آ گیا اور فرمایا: خالد! اسے مت دو، خالد! اسے مت دو۔ کیا تم میرے (مقرر کیے ہوئے) امیروں کو میرے لیے چھوڑ سکتے ہو (کہ میں اصلاح کروں، تم طعن و تشنیع نہ کرو!) تمہاری اور ان کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جسے اونٹوں یا بکریوں کا چرواہا بنایا گیا، اس نے انہیں چرایا، پھر ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اس میں سے پینا شروع کیا تو انہوں نے اس کا صاف پانی پی لیا اور گدلا چھوڑ دیا تو صاف پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4570]
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حمیری آدمی نے دشمن کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور اس کی سلب لینی چاہی تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ جو ان کے امیر تھے، نے اسے روک دیا، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد سے پوچھا، تو نے اسے سلب دینے سے کیوں انکار کیا؟ اس نے کہا، میں نے اسے زیادہ محسوس کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے حوالہ کر دو۔ اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عوف رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سے گزرے تو اس نے ان (خالد) کی چادر کھینچ لی، پھر کہا، کیا میں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، وہ پورا کر دیا؟ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا: اسے نہ دو، اے خالد، اسے نہ دو، اے خالد۔ کیا تم میری خاطر، میرے امیروں پر طعن کرنے سے باز نہیں رہو گے؟ بس تمہاری مثال اور ان کی مثال اس آدمی کی ہے، جس کو اونٹوں کا یا بکریوں کا چرواہا مقرر کیا گیا، اس نے ان کو چرایا، پھر اس نے ان کو پانی پلانے کے وقت کا انتظار کیا اور انہیں حوض پر لے گیا، انہوں نے اسے پینا شروع کیا اور اس کا صاف صاف پانی پی لیا اور اس کا گدلا پانی چھوڑ دیا تو گھاٹ کا خالص پانی تمہارے لیے ہے اور گدلا ان کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4570]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1753 ترقیم شاملہ: -- 4571
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْحَدِيثِ، قَالَ عَوْفٌ: فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ.
صفوان بن عمرو نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں غزوہ موتہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جانے والوں کے ساتھ روانہ ہوا، یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی بھی میرا رفیق سفر ہوا۔۔، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے حدیث میں کہا: عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: خالد! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب (مقتول کے سازوسامان) کا فیصلہ قاتل کے حق میں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اسے زیادہ خیال کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4571]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں شرکت کرنے والوں کے ساتھ نکلا اور یمن سے مدد کے لیے آنے والا ایک آدمی میرا رفیق سفر بنا، آگے مذکورہ بالا حدیث بیان کی، لیکن اس حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ عوف رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں، میں نے کہا، اے خالد رضی اللہ تعالی عنہ! کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب قاتل کو دینے کا فیصلہ دیا ہے؟ اس نے کہا، کیوں نہیں، لیکن میں اس کو زیادہ خیال کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4571]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1753
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں