🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب في غزوة حنين:
باب: جنگ حنین کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1776 ترقیم شاملہ: -- 4615
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ، لِلْبَرَاءِ " يَا أَبَا عُمَارَةَ : أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟، قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلَاحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلَاحٍ، فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لَا يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ، وَبَنِي نَصْرٍ، فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ، فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ، فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ، وَقَالَ: " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ، ثُمَّ صَفَّهُمْ ".
ابوخیثمہ نے ہمیں ابواسحاق سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ تک نہیں پھیرا، البتہ آپ کے ساتھیوں میں سے چند نوجوان اور جلد باز (جنگ کے لیے) نہتے نکلے تھے جن (کے جسم) پر اسلحہ یا بڑا اسلحہ نہیں تھا، تو ان کی مڈبھیڑ ایسی تیر انداز قوم سے ہوئی جن کا کوئی تیر (زمین) پر نہ گرتا تھا، (نشانے پر لگتا تھا) وہ بنو ہوازن اور بنو نضر کے جتھے تھے، انہوں نے ان (نوجوانوں) کو اس طرح سے تیروں سے چھیدنا شروع کیا کہ کوئی نشانہ خطا نہ جاتا تھا، پھر وہ لوگ وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بڑھے، آپ اپنے سفید خچر پر تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسے چلا رہے تھے، آپ نیچے اترے (اللہ سے) مدد مانگی اور فرمایا: میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ پھر آپ نے (نئے سرے سے) ان کی صف بندی کی (اور پانسہ پلٹ گیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4615]
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا اے ابو عمارہ! کیا تم حنین کے دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت نہیں دکھائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوجوان ساتھی اور جلد باز، نہتے، جن کے پاس دفاعی اسلحہ نہ تھا یا زیادہ اسلحہ نہ تھا، آگے بڑھے اور انتہائی ماہر تیر انداز لوگوں سے، جن کا کوئی تیر نشانہ سے چوکتا نہیں تھا یعنی ہوازن اور بنو نصر سے بھڑ گئے اور انہوں نے یکبار اس طرح ان پر تیر پھینکے کہ ان کا کوئی تیر نشانہ سے چوکتا نہ تھا تو یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر تھے اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ اس کو آگے سے پکڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اترے اللہ تعالیٰ سے نصرت (مدد) طلب کی اور فرمایا: میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آنے والوں کی صف بندی کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4615]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1776
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1776 ترقیم شاملہ: -- 4616
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْبَرَاءِ، فَقَالَ: أَكُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ ؟، فَقَالَ: " أَشْهَدُ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا وَلَّى، وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّاءُ مِنَ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ، فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ كَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَانْكَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ، فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ، اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَكَ "، قَالَ الْبَرَاءُ: كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِي بِهِ، وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِي يُحَاذِي بِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زکریا نے ابواسحاق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا: ابوعمارہ! کیا آپ لوگ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رخ تک نہیں پھیرا، کچھ جلد باز لوگ اور نہتے ہوازن کے اس قبیلے کی طرف بڑھے، وہ تیر انداز لوگ تھے، انہوں نے ان (نوجوانوں) پر اس طرح یکبارگی اکٹھے تیر پھینکے جیسے وہ تڈی دل ہوں۔ اس پر وہ بکھر گئے، اور وہ (ہوازن کے) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے، ابوسفیان (بن حارث) رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کو پکڑ کر چلا رہے تھے، تو آپ نیچے اترے، دعا کی اور (اللہ سے) مدد مانگی، آپ فرما رہے تھے: میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ اے اللہ! اپنی مدد نازل فرما۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب لڑائی شدت اختیار کر جاتی تو ہم آپ کی اوٹ لیتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہ ہوتا جو آپ کے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قدم ملا کر کھڑا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4616]
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا، کیا تم حنین کے دن بھاگ گئے تھے؟ اے ابو عمارۃ رضی اللہ تعالی عنہ تو انہوں نے جواب دیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں دکھائی، لیکن کچھ جلد باز لوگ، غیر مسلح اس ہوازن قبیلہ کی طرف چلے اور وہ تیر انداز لوگ تھے تو انہوں نے ان پر تیروں کی باڑھ اس طرح ماری گویا وہ ٹڈی دل ہے تو یہ لوگ سامنے سے ہٹ گئے اور یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گئے اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے خچر آگے سے پکڑے ہوئے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، دعا کی، مدد چاہی اور فرمانے لگے: میں نبی ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں، اے اللہ! اپنی مدد اتار۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4616]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1776
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1776 ترقیم شاملہ: -- 4617
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟، فَقَالَ الْبَرَاءُ: وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ، وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا، فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ، يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ "،
شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے (اس وقت) حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا جب (قبیلہ) قیس کے ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ لوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگے تھے؟ تو حضرت براء رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے، اس زمانے میں ہوازن کے لوگ (ماہر) تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بکھر گئے، پھر ہم غنیمتوں کی طرف متوجہ ہو گئے تو وہ تیروں کے ساتھ ہمارے سامنے آ گئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفید خچر پر دیکھا، ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ تھامے ہوئے تھے اور آپ فرما رہے تھے: میں نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4617]
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک قیسی آدمی نے سوال کیا، کیا تم حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے؟ تو حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں بھاگے تھے اور ہوازن کے لوگ ماہر تیر انداز تھے اور ہم نے جب ان پر حملہ کیا تو وہ شکست کھا گئے اور ہم غنیمتوں پر ٹوٹ پڑے، انہوں نے ہمارا استقبال تیروں سے کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفید خچر پر دیکھا اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ اس کے لگام کو تھامے ہوئے تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نبی ہوں، جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4617]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1776
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1776 ترقیم شاملہ: -- 4618
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ:، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلَاءِ أَتَمُّ حَدِيثًا.
سفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: ایک آدمی نے ان سے پوچھا: ابوعمارہ!۔۔۔ اور (آگے) حدیث بیان کی، ان کی حدیث ان سب (ابوخیثمہ، زکریا اور شعبہ) کی حدیث سے (تفصیلات میں) کم ہے اور ان سب کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4618]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا، اے ابو عمارہ! آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، یہ روایت اوپر کے راویوں سے کم ہے اور ان کی حدیث زیادہ تام ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4618]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1776
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں