صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب النهي عن طلب الإمارة والحرص عليها:
باب: امارت کی درخواست اور حرص کرنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 4526
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا " ,
شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا (حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں آسانی پیدا کرنا، مشکل میں نہ ڈالنا، خوشخبری دینا، دور نہ بھگانا، آپس میں اتفاق رکھنا، اختلاف نہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4526]
سعید بن ابی بردہ، اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”آسانی پیدا کرنا اور تنگی پیدا نہ کرنا اور بشارت دینا اور نفرت پیدا نہ کرنا، باہمی اتفاق رکھنا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا۔۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 4527
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا.
عمرو اور زید بن ابی انیسہ دونوں نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے (آگے) اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔ اور زید بن ابی انیسہ کی حدیث میں یہ نہیں ہے: ”دونوں آپس میں اتفاق رکھنا اور اختلاف نہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4527]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن زید بن ابی انیسہ کی روایت میں یہ قول نہیں ہے، ”باہمی اتفاق سے رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 4717
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنَا عَلَى بَعْضِ مَا وَلَّاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ: إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَى هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ ".
برید بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی تولیت میں جو دیا اس کے کسی حصے پر ہمیں امیر بنا دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم کسی ایسے شخص کو اس کام کی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کو طلب کرے، نہ ایسے شخص کو بناتے ہیں جو اس کا خواہش مند ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4717]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میں اور میرے دو چچا زاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان میں سے ایک نے کہا، اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے جو امور آپ کے سپرد کیے ہیں، ان میں سے کوئی ایک ہمارے سپرد فرما دیں اور دوسرے نے بھی یہی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم، (اللہ کی قسم)! یہ کام (عہدہ و منصب) کسی ایسے فرد کے سپرد نہیں کرتے (اس کو والی مقرر نہیں کرتے) جو اس کا طالب ہو یا اس کا حریص ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4717]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 4718
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى : أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا، عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي، فَكِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَقَالَ: " مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ؟، قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ، فَقَالَ: لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ، قَالَ: انْزِلْ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً، وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ، قَالَ: مَا هَذَا؟، قَالَ: هَذَا كَانَ يَهُودِيًّا، فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْءِ، فَتَهَوَّدَ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: اجْلِسْ نَعَمْ، قَالَ: لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ، ثُمَّ تَذَاكَرَا الْقِيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ: أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي ".
حمید بن ہلال نے کہا: مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بنو اشعر میں سے دو آدمیوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک میری دائیں جانب تھا اور دوسرا میری بائیں جانب۔ ان دونوں نے کسی منصب کا سوال کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ابوموسیٰ!“ یا فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ان دونوں نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کے دل میں کیا ہے؟ اور نہ مجھے یہ پتہ تھا کہ یہ دونوں منصب کا سوال کریں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا لگتا ہے کہ میں (آج بھی) آپ کے ہونٹ کے نیچے مسواک دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ کا ہونٹ اوپر کو سمٹا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: ”جو شخص خواہش مند ہو گا ہم اسے اپنے کسی کام کی ذمہ داری ہرگز نہیں دیں گے۔“ لیکن آپ نے فرمایا: ”ابوموسیٰ! یا عبداللہ بن قیس! تم (ذمہ داری سنبھالنے کے لیے) چلے جاؤ۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیج دیا، پھر (ساتھ ہی) ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تشریف لائیے اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک گدا بچھایا، تو وہاں اس وقت ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا، انہوں (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: یہ کون ہے؟ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ایک یہودی تھا، پھر یہ مسلمان ہو گیا اور اب پھر اپنے دین، برائی کے دین پر لوٹ گیا ہے اور یہودی ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس کو قتل نہ کر دیا جائے، یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، (ہم اس کو قتل کرتے ہیں) آپ بیٹھیے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک اس شخص کو قتل نہیں کر دیا جاتا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے، تین (مرتبہ یہی مکالمہ ہوا)۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا، اس شخص کو قتل کر دیا گیا، پھر ان دونوں نے آپس میں رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی۔ دونوں میں سے ایک (یعنی) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنے قیام میں جس اجر کی امید رکھتا ہوں اپنی نیند میں بھی اسی (اجر) کی توقع رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4718]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا اور میرے ساتھ دو اشعری آدمی تھے، ان میں سے ایک میری دائیں طرف اور دوسرا میری بائیں جانب تھا، دونوں نے عہدہ کا سوال کیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! یا اے عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا، اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، مجھے ان دونوں نے اپنے دل کی بات سے باخبر نہیں کیا تھا اور نہ میں نے جانا کہ یہ دونوں عہدہ کے طالب ہیں اور میں گویا کہ آپ کی مسواک آپ کے ہونٹ تلے دیکھ رہا ہوں اور وہ سکڑ چکا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ہرگز اپنا عمل (عہدہ و منصب) اس کے سپرد نہیں کریں گے، نہیں کرتے ہیں، جو اس کا خواہشمند ہو، لیکن، تو اے ابو موسیٰ یا اے عبداللہ بن قیس، جا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یمن کا عامل مقرر فرمایا، پھر ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیج دیا، تو جب حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ، ان کے پاس پہنچے، حضرت ابو موسیٰ نے کہا، اترئیے اور انہیں تکیہ پیش کیا اور ان کے پاس ایک آدمی جکڑا ہوا موجود تھا، حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا، یہ کون ہے؟ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، یہ یہودی تھا اور مسلمان ہو گیا، پھر اپنے برے دین کی طرف لوٹ گیا ہے اور یہودی بن گیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، جب تک اسے قتل نہیں کیا جاتا، میں نہیں بیٹھوں گا، اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، آپ بیٹھیں، ہم آپ کی بات پر عمل کرتے ہیں، انہوں نے تین دفعہ کہا، جب تک اسے قتل نہیں کیا جاتا، میں نہیں بیٹھوں گا، اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہے، تو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، پھر دونوں نے باہمی رات کے قیام کے بارے میں گفتگو کی، تو ان میں سے ایک حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، رہا میں، تو میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور اپنی نیند میں بھی اس اجر کی امید رکھتا ہوں، جس کی امید اپنے قیام میں رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4718]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 5214
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ، وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ، فَقَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
شعبہ نے سعید بن ابی بردہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے علاقے میں جو سے ایک مشروب بنایا جاتا ہے اس کو مزر کہتے ہیں اور ایک مشروب شہد سے بنایا جاتا ہے اس کو بتع کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 5214]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور معاذ بن جبل کو یمن بھیجا، تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہماری سرزمین (یمن) میں جو سے ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے، جسے مِزُر کہا جاتا ہے اور ایک مشروب ہے جسے بتع کہتے ہیں، شہد سے تیار کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 5214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1733 ترقیم شاملہ: -- 5215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا: " بَشِّرَا وَيَسِّرَا وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَأُرَاهُ قَالَ: وَتَطَاوَعَا، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعَسَلِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ ".
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا، انہوں نے اپنے والد (ابوبردہ عامر بن ابی موسیٰ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: ”تم دونوں لوگوں کو (اچھے اعمال کے انعام کی) خوشخبری سنانا اور (معاملات کو) آسان بنانا، (دین) سکھانا اور متنفر نہ کرنا۔“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرمایا: ”دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا۔“ جب (اجازت لے کر) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا: اللہ کے رسول! ان کا شہد سے بنایا ہوا ایک مشروب ہے جسے پکایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور (ایک مشروب) مزر ہے جسے جو سے تیار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ چیز جو نماز سے مدہوش کردے وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 5215]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اور معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور دونوں کو فرمایا: ”بشارت دینا، آسانی اور سہولت پیدا کرنا اور سکھانا اور نفرت نہ دلانا۔“ میرا خیال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”باہمی اتفاق رکھنا“ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت پھیری، ابوموسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ واپس آئے اور کہنے لگے، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ایک شراب شہد سے بناتے ہیں، اسے پکایا جاتا ہے، حتیٰ کہ پکانے میں گرہ بندھ جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو سے بنایا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نماز سے نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 5215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1733
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة