صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 363
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، قَالَ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ، رَعِيَّةً يَمُوتُ، يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ".
ابواشہب نے حسن (بصری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کے مرض الموت میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ اگر میں جانتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی ایسا بندہ جسے اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت سے دھوکا کرنے والا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 363]
حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کی مرض الموت میں عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں تمھیں ایک ایسی حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ اگر میں یہ سمجھتا کہ میں ابھی کچھ عرصہ اور زندہ رہوں گا تو تمھیں یہ حدیث نہ سناتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کسی کا نگران اور محافظ بناتا ہے اور وہ اپنی رعایا کے (حقوق میں) خیانت کرتا ہوا مرتا ہے، تو اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 363]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة،»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 364
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لَأُحَدِّثَكَ.
(ابواشہب کے بجائے) یونس نے حسن سے روایت کی، انہوں نے کہا: عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ اس وقت بیمار تھے اور ان کا حال پوچھا، تو وہ کہنے لگے: میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے پہلے تمہیں نہیں سنائی تھی، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا نگران بناتا ہے اور موت کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ رعیت کے حقوق میں دھوکے بازی کرنے والا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے پہلے مجھے یہ حدیث نہیں سنائی؟ معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہیں نہیں سنائی یا میں تمہیں نہیں سنا سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 364]
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد (ان کی بیمار پرسی کے لیے) ان کے پاس آیا اور ان کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگے: میں تمھیں ایسی حدیث سنانے لگا ہوں، جو میں نے پہلے تمھیں نہیں سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا محافظ بناتا ہے، اور وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس (رعیت) کے ساتھ دھوکا کرنے والا ہوتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت ممنوع قرار دے دیتا ہے۔“ عبید اللہ نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں سنائی؟ تو انھوں نے جواب دیا: میں نے تجھے نہیں سنائی یا میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ (کیونکہ زندگی میں بیان کرنے کی صورت میں خطرہ تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (361)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 365
وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ : كُنَّا عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ نَعُودُهُ فَجَاءَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمَا.
(ایک اور سند سے) ہشام سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حسن نے کہا: ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے ہاں ان کی عیادت کر رہے تھے کہ عبید اللہ بن زیاد آ گیا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ...... پھر ہشام نے باقی حدیث ان دونوں (ابوالاشہب اور یونس) کی حدیث کے مفہوم کے مطابق بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 365]
حسن رحمہ اللہ نے بتایا: ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس عیادت کے لیے گئے ہوئے تھے کہ عبید اللہ بن زیاد بھی آگیا تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمھیں ایسی حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، پھر اوپر کے مفہوم والی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 365]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (361)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 366
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ، عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ، لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ".
ابوملیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں موت (کی راہ) میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی امیر جو مسلمانوں کے معاملات کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، پھر وہ ان (کی بہبود) کے لیے کوشش اور خیر خواہی نہیں کرتا، وہ ان کے ہمراہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 366]
ابو الملیح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد نے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کی تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تمھیں ایک حدیث سناتا ہوں، اگر میں مر نہ رہا ہوتا تو وہ نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”جو امیر بھی مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنتا ہے، پھر وہ (ان کی بہتری و بہبود کے لیے) کوشش نہیں کرتا تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 366]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة،»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4729
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "،
ابواشہب نے حضرت حسب بصری سے روایت کی کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس مرض میں ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے جس میں ان کی وفات ہوئی۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اگر مجھے (پکا) علم ہوتا کہ میں ابھی اور زندہ رہوں گا تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4729]
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ تعالی عنہ کے مرض الموت میں، عبیداللہ بن زیاد ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا، تو وہ فرمانے لگے، میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں زندہ رہوں گا، تو میں تمہیں نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بندے کو بھی اللہ تعالیٰ کسی رعایا کا نگران اور محافظ بناتا ہے اور وہ جس دن مرتا ہے، اس حال میں مرتا ہے کہ وہ اپنے رعایا کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت حرام ٹھہراتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4729]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4730
وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ، وَزَادَ، قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ، قَالَ: مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ.
یونس نے حضرت حسن بصری سے روایت کی، کہا: ابن زیاد حضرت معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ اس وقت (بیمار تھے اور) درد میں مبتلا تھے، جیسے ابواشہب کی حدیث ہے اور انہوں نے اضافہ کیا: اس (ابن زیاد) نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں بیان کی؟ حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہیں کبھی حدیث نہیں سنائی، (تم نے حدیث کا سماع ہی نہیں کیا) یا فرمایا: میں تمہیں حدیث بیان نہیں کیا کرتا تھا (حدیث میں تمہارا استاد نہ تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4730]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ کی بیماری میں ابن زیاد ان کے پاس گیا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے، ابن زیاد نے کہا، آپ نے آج سے پہلے یہ حدیث مجھے کیوں نہیں سنائی؟ تو انہوں نے جواب دیا، میں نے بیان نہیں کی، یا میں تمہیں سنانا نہیں چاہتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4730]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4731
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : " إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ "،
ابوملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4731]
ابو ملیح بیان کرتے ہیں، کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا، تو حضرت معقل رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے کہا، میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں، اگر میں موت کی کیفیت سے دوچار نہ ہوتا، تو تمہیں نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو امیر بھی مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنتا ہے پھر وہ ان کے نفع کے لیے کوشش نہیں کرتا اور ان کی خیرخواہی نہیں کرتا، تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4731]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4732
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلٍ.
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا۔ (آگے) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4732]
سوادہ بن ابی الاسود اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ بیمار ہو گئے، تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا، آگے حسن بصری کی طرح، حضرت معقل رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة