صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب تحريم هدايا العمال:
باب: جو شخص سرکاری کام پر مقرر ہو تحفہ نہ لے۔
ترقیم عبدالباقی: 1832 ترقیم شاملہ: -- 4738
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: " اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَسْدِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ، قَالَ عَمْرٌو، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ: عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ، فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّى يَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْهِ أَمْ لَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ مَرَّتَيْنِ "،
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی،۔۔ الفاظ ابوبکر بن ابی شیبہ کے ہیں۔۔ کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو جسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا، عامل مقرر کیا۔۔ عمرو اور ابن ابی عمر نے کہا: زکاۃ کی وصولی پر (مقرر کیا)۔۔ جب وہ (زکاۃ وصول کر کے) آیا تو اس نے کہا: یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”ایک عامل کا حال کیا ہوتا ہے کہ میں اس کو (زکاۃ وصول کرنے) بھیجتا ہوں اور وہ آ کر کہتا ہے: یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ کیا گیا ہے، ایسا کیوں نہ ہوا کہ یہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں بیٹھتا، پھر نظر آتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ وہ اس (مال) میں سے (اپنے لیے) کچھ لے، مگر وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس نے اسے اپنی گردن پر اٹھا رکھا ہو گا، قیامت کے دن اونٹ ہو گا، بلبلا رہا ہو گا، گائے ہو گی، ڈکرا رہی ہو گی، بکری ہو گی، ممیا رہی ہو گی۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ ہمیں آپ کی دونوں بغلوں کے سفید حصے نظر آئے، پھر آپ نے دو مرتبہ فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے (حق) پہنچا دیا؟“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4738]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسد قبیلہ کے ایک ابن لتبیہ نامی انسان کو صدقہ کی وصولی کے لیے عامل مقرر فرمایا، تو جب وہ (صدقہ وصول کر کے) واپس آیا، کہنے لگا، یہ آپ کا مال ہے اور یہ میرا مال ہے جو مجھے تحفہ ملا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی اور فرمایا: ”جس کارندے کو میں بھیجتا ہوں، اس کو کیا ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے یہ تمہارا حصہ ہے اور یہ مجھے تحفہ میں دیا گیا ہے وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں بیٹھا نہیں رہا، تاکہ دیکھتا کیا اسے تحفہ بھیجا جاتا ہے یا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، تم میں سے کوئی صدقہ کے مال سے کچھ نہیں لے گا، مگر قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو گا، اگر اونٹ ہے تو وہ بلبلا رہا ہو گا اور اگر گائے ہے تو وہ ڈکار رہی ہو گی، بکری ہوئی تو ممیا رہی ہو گی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے، حتیٰ کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کا مٹیالہ رنگ دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔“ دو دفعہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4738]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1832 ترقیم شاملہ: -- 4739
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ بِالْمَالِ، فَدَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَى إِلَيْكَ أَمْ لَا "، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اَزد کے ابن لتبیہ نامی ایک شخص کو زکاۃ (کی وصولی) پر عامل بنایا، وہ کچھ مال لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور کہا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھے، پھر دیکھتے کہ تمہیں ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پھر سفیان (بن عیینہ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4739]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازد قبیلہ کے ابن لتبیہ نامی آدمی کو صدقہ کی وصولی پر مقرر کیا، تو اس نے مال لا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کیا اور کہنے لگا، یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا، پھر دیکھتا، کیا تجھے تحفہ بھیجا جاتا ہے، یا نہیں؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4739]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1832 ترقیم شاملہ: -- 4740
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: " اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْأُتْبِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، قَالَ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي، فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي "،
ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسد کے ایک شخص کو بنو سلیم کے صدقات وصول کرنے کے لیے عامل بنایا، اسے ابن لُتبیہ کہا جاتا تھا۔ جب وہ مال وصول کر کے آیا تو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس کے ساتھ حساب کیا۔ وہ کہنے لگا: یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں جا کر کیوں نہ بیٹھ گئے تاکہ تمہارا ہدیہ تمہارے پاس آ جاتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”اما بعد! میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت (انتظام) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکرا رہی ہو گی، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، (اس وقت) آپ فرما رہے تھے: ”اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیگام) پہنچا دیا؟“ (ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب) میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4740]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ابن اتبیہ نامی ازدی آدمی کو بنو سلیم کے صدقات کی وصولی کے لیے مقرر فرمایا، جب وہ واپس آیا، تو آپ نے اس سے حساب مانگا، اس نے کہا، یہ آپ کا مال ہے اور یہ تحفہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے باپ اور اپنی ماں کے گھر کیوں بیٹھا نہیں رہا، تاکہ تیرا ہدیہ تجھے پہنچتا، اگر تو اس معاملہ میں سچا ہے؟“ پھر آپ نے ہمیں خطاب فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: ”اما بعد، میں تم ہی سے کسی کو اس کام کے لیے عامل بناتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے تو وہ آ کر کہتا ہے، یہ تمہارا مال ہے اور یہ تحفہ ہے، جو مجھے دیا گیا ہے، تو وہ اپنے باپ اور ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا، تاکہ اس کا تحفہ اس کو ملتا، اگر وہ سچا ہے، اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی مال سے ناجائز طریقہ سے کچھ نہیں لے گا، مگر وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو اسے اٹھائے ہوئے ملے گا، میں تم سے اس کو ضرور پہچان لوں گا، کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا یا وہ گائے اٹھائے ہوئے ہو گا جو ڈکار رہی ہو گی یا بکری ہو گی جو ممیا رہی ہو گی۔“ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میری آنکھوں نے (آپ کو) دیکھا اور میرے کانوں نے (آپ کی) بات سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4740]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1832 ترقیم شاملہ: -- 4741
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وأبو معاوية . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ كَمَا، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا، وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، قَالَ: بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنَايَ، وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَإِنَّهُ كَانَ حَاضِرًا مَعِي،
عبدہ، ابن نمیر اور ابومعاویہ، اسی طرح عبدالرحیم بن سلیمان اور سفیان سب نے اسی سند کے ساتھ ہشام سے روایت کی۔ عبدہ اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے: جب وہ آیا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) اس کے ساتھ حساب کیا، جس طرح ابواسامہ نے کہا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ (بھی) ہے: ”تم لوگوں کو ضرور پتہ چل جائے گا، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی شخص جو اس (مال) میں سے کوئی چیز لے گا۔“ سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دونوں کانوں نے سنا۔ (حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے) کہا: تم لوگ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھ لو، وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4741]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی تین سندوں سے، ہشام کی مذکورہ بالا روایت سے حدیث بیان کرتے ہیں، عبدہ اور ابن نمیر، ابو اسامہ کی طرح بیان کرتے ہیں، جب وہ آیا تو آپ نے اس کا محاسبہ فرمایا، ابن نمیر کی روایت میں ہے، ”خوب جان لو، اللہ کی قسم! اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس سے کچھ بھی لے گا۔“ اور سفیان کی روایت میں یہ اضافہ ہے، میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا اور زید بن ثابت سے پوچھ لو، کیونکہ وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4741]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1832 ترقیم شاملہ: -- 4742
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ عُرْوَةُ: فَقُلْتُ لِأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي.
عبداللہ بن ذکوان یعنی ابوزناد سے روایت ہے انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صدقات پر عامل مقرر کیا، وہ بہت زیادہ مال لے کر آیا اور کہنے لگا: یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے بطور ہدیہ ملا ہے، پھر اسی (سابقہ حدیث کی) طرح بیان کیا۔ عروہ نے کہا: میں نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا: براہِ راست آپ کے دہن مبارک سے اپنے کانوں تک (آتی ہوئی آواز سے سنی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4742]
عروہ بن زبیر ابو حمید رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ کی وصولی کے لیے مقرر کیا، وہ بہت کچھ مال مویشی لے کر آیا اور کہنے لگا، یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، عروہ کہتے ہیں، میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا، کیا آپ نے اسے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، انہوں نے کہا، آپ کے منہ سے میرے کانوں سے پہنچی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4742]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة