صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب المبايعة بعد فتح مكة على الإسلام والجهاد والخير وبيان معنى: «لا هجرة بعد الفتح».
باب: مکہ کی فتح کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی۔
ترقیم عبدالباقی: 1353 ترقیم شاملہ: -- 3302
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فقَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "،
جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں نفیر عام (جہاد میں حاضری) کے لیے کہا جائے تو نکل پڑو۔“ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”بلاشبہ یہ شہر (ایسا) ہے جسے اللہ نے (اس وقت سے) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت (کی وجہ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے (اب) یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگایا جائے، کوئی شخص اس میں گری ہوئی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، نیز اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سوائے اذخر (خوشبو دار گھاس) کے، وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے (ضروری) ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 3302]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ہجرت کا حکم نہیں رہا، لیکن جہاد ہے، اور نیت، تو جب تمہیں جہاد کے لیے کوچ کرنے کو کہا جائے تو چل پڑو۔“ اور فتح کے دن، فتح مکہ کے موقع پر فرمایا: ”یہ شہر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس دن سے محترم قرار دیا ہے، جس دن آسمان و زمین کو پیدا کیا، لہذا اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت تک کے لیے اس کا ادب و احترام ضروری ہے، اور مجھ سے پہلے اللہ نے کسی کو یہاں قتال کرنے کی اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے وقتی اجازت دی گئی، (اور وقت ختم ہو جانے کے بعد) اب قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ کے محترم قرار دینے سے اس کا ادب و احترام واجب ہے (اور ہر وہ اقدام اور عمل جو اس کے تقدس و احترام کے منافی ہے، حرام ہے) اس علاقہ کے خاردار درخت اور جھاڑ بھی نہ کاٹے اور نہ چھانٹیں جائیں، یہاں کے کسی قابل شکار جانور کو پریشان نہ کیا جائے، اور اگر کوئی گری پڑی چیز نظر آئے تو اس کو وہی اٹھائے جو اس کا اعلان اور تشہیر کرتا رہے، اور یہاں کی سبز گھاس نہ کاٹی اکھاڑی جائے۔“ (اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا) حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اَذْخَرْ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 3302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1353 ترقیم شاملہ: -- 3303
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ: الْقَتْلَ، وَقَالَ: لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا.
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ”جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے، ”قتال“ (لڑائی) کے بجائے ”قتل“ کا لفظ کہا اور کہا: ”یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلان کرے، کوئی نہ اٹھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 3303]
امام صاحب یہ روایت ایک دوسرے استاد سے تھوڑے سے فرق سے لائے ہیں، اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ حرمت آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت سے ہے، اور قِتَال [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 3303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1353 ترقیم شاملہ: -- 4829
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: " فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ".
جریر نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: فتح کے دن جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4829]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”اب (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں نکلنے کے لیے (جہاد کے لیے) کہا جائے تو نکل کھڑے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4829]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1353 ترقیم شاملہ: -- 4830
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ يَعْنِي ابْنَ مُهَلْهِلٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ كُلُّهُمْ، عَنْ مَنْصُورٍبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سفیان، مفضل بن مہلہل اور اسرائیل، سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4830]
امام یہی روایت اپنے کسی اور اساتذہ کی سندوں سے بھی، منصور کی مذکورہ بالا سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4830]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1353
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة