Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب النهي عن الانتباذ في المزفت والدباء والحنتم والنقير وبيان انه منسوخ وانه اليوم حلال ما لم يصر مسكرا:
باب: مرتبان اور تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت اور اس کی منسوخی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5186
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ".
منصور بن حیان نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے (بنے ہوئے) برتنوں، سبز گھڑوں، روغن زفت ملے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی (کے برتنوں) سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5186]
حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دونوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز مٹکے، لاکھی برتن اور چٹھو سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5187
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَر َ؟، قَالَ: وَمَا يَقُولُ؟ قُلْتُ: قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَقَالَ: " صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَقُلْتُ: وَأَيُّ شَيْءٍ نَبِيذُ الْجَرِّ؟، فَقَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنَ الْمَدَرِ ".
یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے۔ تو انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کر دیا ہے۔ میں نے پوچھا: گھڑوں کی نبیذ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے۔ (اس میں بنائی گئی نبیذ) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5187]
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مٹکے کے نبیذ کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے (گھڑے) کے نبیذ کو حرام قرار دیا، تو میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، کیا آپ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی بات نہیں سن رہے؟ انہوں نے پوچھا، وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا، وہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا، وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ کو حرام ٹھہرایا ہے، میں نے پوچھا، گھڑے کا نبیذ کیا چیز ہے؟ انہوں نے جواب دیا، جو شئی (برتن) مٹی سے بنایا جائے، وہ جَرْ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5187]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5188
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ، فَانْصَرَفَ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَهُ فَسَأَلْتُ مَاذَا قَالَ؟، قَالُوا: " نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے کے دوران میں لوگوں کو خطبہ دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سننے کے لئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، لیکن آپ میرے پہنچنے سے پہلے (وہاں سے) تشریف لے گئے۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن اور روغن زفت لگے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5188]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں لوگوں کو خطاب فرمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اس سے پہلے کہ میں آپ تک پہنچوں تو میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ لوگوں نے بتایا آپ نے تونبہ اور لاکھی برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5188]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5189
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْد . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ جَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ إِلَّا مَالِكٌ وَأُسَامَةُ.
لیث بن سعد، ایوب، عبیداللہ، یحییٰ بن سعید، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ان سب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مالک اور اسامہ کے سوا ان میں سے کسی نے ایک غزوے کے دوران میں کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5189]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی مذکورہ بالا امام مالک والی حدیث بیان کرتے ہیں، لیکن مالک اور اسامہ کے سوا کسی نے بعض غزوات کا تذکرہ نہیں کیا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غزوہ میں فرمایا) [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5189]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5190
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ، قُلْتُ: أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ زَعَمُوا ذَاكَ ".
ثابت سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے یہی کہا ہے، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (قسم کے گھڑوں کی نبیذ) سے منع فرمایا تھا؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے یہی کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5190]
ثابت بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا، لوگوں کا خیال یہی ہے، میں نے پوچھا، کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، انہوں نے کہا، لوگوں کا یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5190]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5191
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَر : " أَنَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ "، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
سلیمان تیمی نے طاوس سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر طاوس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5191]
طاؤس بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا، کیا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا ہے، انہوں نے کہا، ہاں، پھر طاؤس نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سے خود سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5192
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ " أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ "، قَالَ: نَعَمْ.
ابن جریج نے کہا: مجھے ابن طاوس نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں اور کدو کے (بنے ہوئے) برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5192]
طاؤس بیان کرتے ہیں، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور تونبے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5193
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ ".
وہیب نے عبداللہ بن طاوس سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں اور کدو کے (بنے ہوئے) برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5193]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے اور تونبے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5194
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ: نَعَمْ.
ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے طاوس کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آکر ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں، کدو کے برتن اور زفت ملے ہوئے برتن میں بنی ہوئی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5194]
طاؤس بیان کرتے ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے، تونبے اور لاکھی برتن کے نبیذ سے منع فرمایا ہے، انہوں نے کہا، ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ: سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ.
شعبہ نے محارب بن دثار سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں اور کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ اور (محارب بن دثار نے) کہا: میں نے یہ (حدیث) ان سے ایک سے زیادہ بار سنی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5195]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے، تونبے، لاکھی برتن سے منع فرمایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5196
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ وَالنَّقِيرِ.
شیبانی نے محارب بن دثار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ (شیبانی نے) کہا: اور میرا گمان ہے (محارب نے) کھوکھلی لکڑی کا بھی ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5196]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور وہ اپنے خیال میں نقیر (چٹھو) کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5197
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ: انْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ ".
عقبہ بن حریث نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑے، کدو کے (بنے ہوئے) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع کیا اور فرمایا: مشکیزوں میں نبیذ بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5197]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے، تونبے، لاکھی، برتن کے نبیذ سے منع کیا اور فرمایا: چمڑے کے مشکیزوں میں (منہ بند کر کے) نبیذ بناؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمَةِ، فَقُلْتُ: مَا الْحَنْتَمَةُ؟ قَالَ: الْجَرَّةُ ".
جبلہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا۔ (جبلہ نے) کہا: میں نے پوچھا: حنتمہ کیا ہے؟ (ابن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: گھڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5198]
جبلہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتمه سے منع فرمایا، میں نے پوچھا، حنتمه کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: گھڑا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5199
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي زَاذَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي بِمَا نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَشْرِبَةِ بِلُغَتِكَ وَفَسِّرْهُ لِي بِلُغَتِنَا، فَإِنَّ لَكُمْ لُغَةً سِوَى لُغَتِنَا، فَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَهِيَ الْجَرَّةُ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ وَهِيَ الْقَرْعَةُ، وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ، وَعَنِ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْسَحُ نَسْحًا وَتُنْقَرُ نَقْرًا، وَأَمَرَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِي الْأَسْقِيَةِ ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے زاذان نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ پینے کی چیزوں کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کے متعلق مجھے (پہلے) اپنی زبان میں حدیث سنائیں پھر ہماری زبان میں اس کی وضاحت کریں کیونکہ آپ کی زبان ہماری زبان سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم سے اور وہ گھڑا ہے اور دباء سے اور وہ کدو ہے اور مزفت سے اور وہ روغن قار ملا ہوا برتن ہے اور نقیر سے اور وہ کھجور کا تنا ہے، اسے چھیلا جاتا ہے اور اس کو کریدا جاتا ہے، منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5199]
زاذان کہتے ہیں، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا، اپنی لغت میں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن مشروبات سے منع فرمایا ہے اور ان کی وضاحت ہماری زبان میں کیجئے، کہ آپ کی زبان، ہماری زبان سے الگ ہے تو انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم یعنی گھڑے، دباء، یعنی قرعة، تونبے، مزفت یعنی مقير تارکول ملا برتن، نقير، کھجور کا تنا، جسے چھیل کر اندر سے اچھی طرح کھودا جاتا ہے، سے منع فرمایا اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5200
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ.
ابوداؤد نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5200]
یہی روایت امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1997 ترقیم شاملہ: -- 5201
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ، وَأَشَارَ إِلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، " فَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ "، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ وَالْمُزَفَّتِ وَظَنَنَّا أَنَّهُ نَسِيَهُ، فَقَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ كَانَ يَكْرَهُ.
عبدالخالق بن سلمہ نے کہا: میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو اس منبر کے پاس کہتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کیا: قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پینے کی چیزوں کے حوالے سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کدو سے بنے ہوئے برتن، اندر سے کریدی ہوئی لکڑی کے برتن اور سبز گھڑے سے منع فرمایا۔ (عبدالخالق بن سلمہ نے کہا) میں نے عرض کی: ابومحمد! اور روغن زفت ملا ہوا برتن؟ ہم نے سمجھا تھا کہ وہ اس کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔ تو انہوں (سعید بن مسیب) نے کہا: میں نے اس دن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ (مزفت کا ذکر) نہیں سنا تھا۔ وہ اس کو (بھی) ناپسند کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5201]
سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اس منبر کے پاس۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی طرف اشارہ کیا۔۔ سنا، عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے انہوں نے مشروبات کے بارے میں سوال کیا، آپ نے انہیں، تونبے، چٹھو، گھڑے کے نبیذ سے منع فرمایا، میں نے ان سے کہا، اے ابو محمد (سعید کی کنیت ہے) اور لاکھی برتن؟ ہم نے سمجھا وہ اسے بھول گئے ہیں، انہوں نے کہا، میں نے اس دن یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نہیں سنا اور وہ اس کو ناپسند کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1997
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں