🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب استحباب رقية المريض:
باب: بیمار پر منتر پڑھنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5707
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ زُهَيْرٌ: وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى مِنَّا إِنْسَانٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "، فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَقُلَ أَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَصْنَعَ بِهِ نَحْوَ مَا كَانَ يَصْنَعُ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى "، قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ قَدْ قَضَى.
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کے متاثرہ حصے) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے، پھر فرماتے: تکلیف کو دور کر دے، اے تمام انسانوں کے پالنے والے! شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو (ذرہ برابر باقی) نہیں چھوڑتی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ کے لیے اعضاء کو حرکت دینا مشکل ہو گیا تو میں نے آپ کا دست مبارک تھاما تاکہ جس طرح خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، میں بھی اسی طرح کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑا لیا، پھر فرمایا: اے میرے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ کی معیت عطا کر دے۔ انہوں نے کہا: پھر میں دیکھنے لگی تو آپ رحلت فرما چکے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5707]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ہم میں سے کوئی انسان بیمار ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے، پھر فرماتے تکلیف ختم کر دے، اے لوگوں کے مالک اور صحت بخش تو ہی شفا بخشنے والا ہے، تیری شفا ہی اصل شفا ہے، ایسی شفا بخش، جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور اس میں شدت پیدا ہوئی، میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا، تاکہ آپ کے ساتھ اس قسم کا سلوک اختیار کروں، جو آپ اختیار کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ کر فرمایا: اے اللہ مجھے معاف فر اور مجھے رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے۔ تو میں دیکھنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہو چکی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5707]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5708
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ فِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَشُعْبَةَ مَسَحَهُ بِيَدِهِ، قَالَ: وَفِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، وقَالَ: فِي عَقِبِ حَدِيثِ يَحْيَي، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قال: فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا فَحَدَّثَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، ابوبکر بن خلاد اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی، بشر بن خالد نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی۔ ابن بشار نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث بیان کی، ان دونوں (محمد بن جعفر اور ابن ابی عدی) نے شعبہ سے روایت کی۔ (اسی طرح) ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوبکر بن خلاد نے بھی ہمیں یہ حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے حدیث بیان کی، ان سب نے جریر کی سند کے ساتھ اعمش سے روایت کی۔ ہشیم اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس (متاثرہ حصے) پر پھیرتے اور (سفیان) ثوری کی حدیث میں ہے: آپ اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے۔ اور اعمش سے سفیان اور ان سے یحییٰ کی روایت کردہ حدیث کے آخر میں ہے، کہا: میں نے منصور کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق اور ان سے ابراہیم کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5708]
امام صاحب کے مختلف اساتذہ، جریر ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، ہشیم اور شعبہ کی روایت میں ہے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے، ثوری کی روایت ہے، اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے اور یحییٰ قطان اپنی حدیث کے آخر میں بیان کرتے ہیں، اعمش کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث منصور کو سنائی تو اس نے ابراہیم سے مسروق کے واسطہ سے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، اس کے ہم معنی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5708]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5709
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا، يَقُولُ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِهِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا ".
ابوعوانہ نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرتے تھے تو فرماتے: تکلیف دور کر دے، اے سب لوگوں کے پالنے والے! اس کو شفا عطا کر، تو شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا (دے) جو (ذرہ برابر) بیماری کو نہ چھوڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5709]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کے لیے جاتے تو فرماتے بیماری ختم کر دے، اے لوگوں کے رب، تو اسے شفا بخش، تو ہی شفا بخشنے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5709]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5710
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ يَدْعُو لَهُ، قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، فَدَعَا لَهُ، وَقَالَ: وَأَنْتَ الشَّافِي.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے منصور سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوضحیٰ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لاتے تو اس کے لیے دعا فرماتے ہوئے کہتے: تکلیف دور کر دے، اے سب انسانوں کے پالنے والے! اور شفا عطا کر تو ہی شفا دینے والا ہے، شفا عطا کر، تیری شفا کے سوا (کہیں) کوئی شفا نہیں، ایسی شفا سے جو بیماری کو (باقی) نہ چھوڑے۔ ابوبکر (ابن ابی شیبہ) کی روایت میں ہے: آپ اس کے لیے دعا فرماتے اور کہتے: اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5710]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے پاس جاتے، اس کے لیے ان کلمات کے ساتھ دعا فرماتے بیماری لے جا، اے لوگوں کے رب! اور شفا بخش، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا ہی شفاء، ایسی شفاء جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے اور ابوبکر کی روایت میں يدعو له [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5710]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5711
وحدثني الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ وَجَرِيرٍ.
اسرائیل نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم اور مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب کسی مریض کی عیادت کرتے) تھے (آگے) جس طرح ابوعوانہ اور جریر کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5711]
امام صاحب کے دو اور استاد یہی روایت سناتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5711]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5712
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي بِهَذِهِ الرُّقْيَةِ " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ ".
ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دم کرتے تھے: تکلیف دور فرما دے، اے سب انسانوں کے پالنے والے! شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تیرے سوا اس تکلیف کو دور کرنے والا اور کوئی نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5712]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دم سے دم فرماتے بیماری لے جا اے لوگوں کے رب، تیرے ہی ہاتھ میں شفا ہے، تیرے سوا اس کو کوئی دور نہیں کر سکتا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5712]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2191 ترقیم شاملہ: -- 5713
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابواسامہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5713]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5713]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2191
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں