صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التداوي بالعود الهندي وهو الكست:
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 665
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، " أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَوَضَعَتْهُ فِي حَجْرِهِ، فَبَالَ، قَالَ: فَلَمْ يَزِدْ عَلَى أَنْ نَضَحَ بِالْمَاءِ "،
لیث نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 665]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے بچے کو جس نے ابھی کھانا کھانا شروع نہیں کیا تھا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، یعنی بٹھا دیا اس نے پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 665]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 666
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ، فَرَشَّهُ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) روایت کی اور کہا: آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 666]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا (یعنی «نضح» کی جگہ «رش» کا لفظ ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 666]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 667
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الأُوَلِ، اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي: أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا، لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ، بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ عَلَى ثَوْبِهِ، وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا ".
یونس بن یزید نے کہا: مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے (وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں، کی بہن تھیں) روایت کی، کہا: انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے۔ (ابن شہاب کے استاد) عبید اللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 667]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا (جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے ہیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، اور یہ عکاشہ بنت محصن جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں کی بہن ہیں) بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئی جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، اس نے مجھے بتایا میرے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بول کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور اسے اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 667]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 5762
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جس نے (ابھی تک) کھانا شروع نہیں کیا تھا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5762]
حضرت ام قیس بنت محصن، حضرت عکاشہ بن محصن کی ہمشیرہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں، میں اپنے بیٹے کو لے کر، جو کھانا نہیں کھانے لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، اس نے آپ پر بول کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر چھڑکا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5762]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 287 ترقیم شاملہ: -- 5765
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.
عبیداللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5765]
عبیداللہ کہتے ہیں، اس نے مجھے بتایا کہ اس کے اس بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر، اس کے بول پر چھڑک دیا اور اس کو اچھی طرح دھویا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 287
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة