🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان:
باب: کہانت کی حرمت اور کاہنوں کے پاس جانے کا حرمت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1199
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتِهِمْ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ، فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ دونوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم سب کو کیا ہو گیا کہ مجھے گھور رہے ہو؟ پھر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں (تو مجھے عجیب لگا) لیکن میں خاموش رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا! اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابھی تھوڑا عرصہ پہلے میں جاہلیت میں تھا، اور اللہ نے اسلام سے نواز دیا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں (پیش گوئی کرنے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جانا۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے)، یہ (وہم) انہیں (ان کے) کسی کام سے نہ روکے۔ (محمد) ابن صباح نے روایت کی: یہ تمہیں کسی صورت (اپنے کاموں سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں، وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔ (لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے۔) (معاویہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا:) میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف جا نکلا تو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑ جڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی (غلط) حرکت قرار دیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 1199]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، اسی اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تجھے رحمت سے نوازے۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا تو میں نے کہا: کاش میری ماں مجھے گم پاتی (میں مر چکا ہوتا) تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہے ہو۔ تو وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے ان کو جانا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو مجھے غصہ آیا لیکن میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر سکھانے والا نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز، اس میں کسی قسم کی انسانی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جاہلیت سے نیا نیا نکلا ہوں اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیج دیا ہے (مجھے اسلام لانے کی توفیق دی ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (پیش گوئی کرنے والے پنڈت و نجومی) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان کے پاس نہ جا۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، یہ ان کو کسی کام سے نہ روکے۔ ابن صباح نے کہا: تمہیں بالکل نہ روکے۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں اس کے موافق ہوں گی تو ٹھیک ہے۔ اس (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے بتایا: میری ایک لونڈی تھی، جو احد اور جوانیہ کے پاس میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف آ نکلا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا تو میں بھی اولادِ آدم سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اس طرح غصہ آتا ہے، جس طرح ان کو غصہ آتا ہے، (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اس کو زور سے تھپڑ رسید کر دیا، اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس حرکت کو بہت ناگوار قرار دیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 1199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1200
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 1200]
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس کے واسطہ سے اوزاعی کی یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے اس قسم کی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 1200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5813
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قال: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمُورًا كُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: " فَلَا تَأْتُوا الْكُهَّانَ "، قَال، قُلْتُ: كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ: " ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُهُ أَحَدُكُمْ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے، انہوں نے حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کچھ کام ایسے تھے جو ہم زمانۂ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم کاہنوں کے پاس نہ جائیں۔میں نے عرض کی: ہم بد شگونی لیتے تھے، آپ نے فرمایا:یہ (بد شگونی) محض ایک خیال ہے جو کوئی انسان اپنے دل میں محسوس کرتا ہے، یہ تمہیں (کسی کام سے) نہ روکے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5813]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بہت سے کام ہیں جو ہم جاہلیت کے دور میں کرتے تھے، ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو کاہنوں کے پاس مت جاؤ۔ میں نے کہا: ہم بدشگونی لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا تمہارے کسی کے دل میں وسوسہ پیدا ہوتا ہے، تو وہ تمہیں تمہارے کام سے ہرگز نہ روکے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5814
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِكًا فِي حَدِيثِهِ ذَكَرَ الطِّيَرَةَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْكُهَّانِ.
عقیل، معمر، ابن ابی ذئب اور مالک، ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، مگر مالک نے اپنی حدیث میں بد شگونی کا نام لیا ہے، اس میں کاہنوں کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5814]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ کی چار سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ان میں امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں بری فال کا ذکر ہے لیکن کہانت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5814]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 5815
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِير ٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَة، عَنْ مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ.
حجاج صواف اور اوزاعی، دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زہری کی ابوسلمہ سے اور ان کی معاویہ سے روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے، کہا: میں نے عرض کی: ہم میں ایسے لوگ ہیں جو (مستقبل کا حال بتانے کے لیے) لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچتے تھے، جو ان کی لکیروں سے موافقت کر گیا تو وہ ٹھیک ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5815]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچتے تھے، تو جو ان کے طریقے کے مطابق لکیریں کھینچے گا وہ ٹھیک ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5815]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں