🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب تَحْرِيمِ الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ:
باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1199
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتِهِمْ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ، فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ دونوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» اللہ تجھ پر رحم کرے۔ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم سب کو کیا ہو گیا کہ مجھے گھور رہے ہو؟ پھر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں (تو مجھے عجیب لگا) لیکن میں خاموش رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا! اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابھی تھوڑا عرصہ پہلے میں جاہلیت میں تھا، اور اللہ نے اسلام سے نواز دیا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں (پیش گوئی کرنے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جانا۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے)، یہ (وہم) انہیں (ان کے) کسی کام سے نہ روکے۔ (محمد) ابن صباح نے روایت کی: یہ تمہیں کسی صورت (اپنے کاموں سے) نہ روکے۔ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں، وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔ (لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے۔) (معاویہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا:) میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف جا نکلا تو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑ جڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی (غلط) حرکت قرار دیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1199]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، اسی اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تجھے رحمت سے نوازے۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا تو میں نے کہا: کاش میری ماں مجھے گم پاتی (میں مر چکا ہوتا) تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہے ہو۔ تو وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے ان کو جانا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو مجھے غصہ آیا لیکن میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر سکھانے والا نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز، اس میں کسی قسم کی انسانی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جاہلیت سے نیا نیا نکلا ہوں اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیج دیا ہے (مجھے اسلام لانے کی توفیق دی ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (پیش گوئی کرنے والے پنڈت و نجومی) کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان کے پاس نہ جا۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، یہ ان کو کسی کام سے نہ روکے۔ ابن صباح نے کہا: تمہیں بالکل نہ روکے۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں اس کے موافق ہوں گی تو ٹھیک ہے۔ اس (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے بتایا: میری ایک لونڈی تھی، جو احد اور جوانیہ کے پاس میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف آ نکلا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا تو میں بھی اولادِ آدم سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اس طرح غصہ آتا ہے، جس طرح ان کو غصہ آتا ہے، (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اس کو زور سے تھپڑ رسید کر دیا، اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس حرکت کو بہت ناگوار قرار دیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1200
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1200]
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس کے واسطہ سے اوزاعی کی یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے اس قسم کی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 538 ترقیم شاملہ: -- 1201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأبو سعيد الأشج وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ، سَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرُدُّ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا ".
ابن فضیل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، جب آپ نماز میں ہوتے تھے، سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپ کو (نماز میں) سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہا کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: نماز میں (اس کی اپنی) مشغولیت ہوتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1201]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا کرتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز میں) سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جواب نہ دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جواب دیا کرتے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا» نماز خود ایک مشغولیت رکھتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1201]
ترقیم فوادعبدالباقی: 538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 538 ترقیم شاملہ: -- 1202
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
(ابن فضیل کے بجائے) ہریم بن سفیان نے اعمش سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کے مثل حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1202]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1202]
ترقیم فوادعبدالباقی: 538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 539 ترقیم شاملہ: -- 1203
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، " فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ ".
ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے حارث بن شبیل سے، انہوں نے ابوعمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، ایک آدمی نماز میں اپنے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت اتری: «وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» اللہ کے حضور انتہائی خشوع و خضوع کے عالم میں کھڑے ہو۔ تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1203]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، انسان نماز میں اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے ساتھی سے گفتگو کر لیتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] اللہ کے حضور عجز و نیاز سے کھڑے ہو اتری، تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور ہمیں گفتگو کرنے سے روک دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1203]
ترقیم فوادعبدالباقی: 539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 539 ترقیم شاملہ: -- 1204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
(ہشیم کے بجائے) عبداللہ بن نمیر، وکیع اور عیسیٰ بن یونس نے اسماعیل بن ابی خالد سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1204]
امام صاحب رحمہ اللہ تین اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1204]
ترقیم فوادعبدالباقی: 539
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 540 ترقیم شاملہ: -- 1205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَنِي لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ، قَالَ قُتَيْبَةُ: يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَانِي، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي، وَهُوَ مُوَجِّهٌ حِينَئِذٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ".
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے اپنی اپنی سند کے ساتھ لیث (بن سعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، پھر میں آپ کو آ کر ملا، آپ سفر میں تھے، قتیبہ نے کہا: آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے اشارہ فرمایا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس وقت (سواری پر نماز پڑھتے ہوئے) آپ کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1205]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے باہر بھیجا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چلتے ہوئے آ کر ملا، قتیبہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ فرمایا (اشارہ سے جواب دیا)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلوایا اور فرمایا: ابھی تم نے سلام کہا جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اور اس وقت (نماز میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی طرف تھا۔ (نفلی نماز سواری پر غیر قبلہ کی طرف رخ کرکے پڑھی جا سکتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1205]
ترقیم فوادعبدالباقی: 540
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 540 ترقیم شاملہ: -- 1206
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ، فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي بِيَدِهِ: هَكَذَا، وَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ بِيَدِهِ، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ، فَقَالَ لِي: هَكَذَا، فَأَوْمَأَ زُهَيْرٌ أَيْضًا بِيَدِهِ نَحْوَ الأَرْضِ، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ يُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ لَهُ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي "، قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو الزُّبَيْرِ: جَالِسٌ مُسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ بِيَدِهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَقَالَ بِيَدِهِ: إِلَى غَيْرِ الْكَعْبَةِ.
زہیر نے کہا: مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور آپ بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے، میں واپسی پر آپ کے پاس آیا تو آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ سے بات کی تو آپ نے مجھے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ زہیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے دکھایا۔ میں نے دوبارہ بات کی تو مجھے اس طرح (اشارے سے کچھ) کہا۔ زہیر نے بھی اپنے ہاتھ سے زمین کی طرف اشارہ کیا۔ اور میں سن رہا تھا کہ آپ قراءت فرما رہے ہیں، آپ (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: جس کام کے لیے میں نے تمہیں بھیجا تھا، تم نے (اس کے بارے میں) کیا کیا؟ مجھے تم سے گفتگو کرنے سے اس کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ زہیر نے کہا: ابوزبیر کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے، ابوزبیر نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں (ابوزبیر) نے ہاتھ سے قبلے کی دوسری سمت کی طرف اشارہ کیا (سواری پر نماز کے دوران آپ کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1206]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو مصطلق کی طرف جا رہے تھے (کام کے لیے) بھیجا، میں واپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا (زہیر نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا) اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سن رہا تھا (رکوع و سجود کے لیے) سر سے اشارہ فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا: جس کام کے لیے میں نے بھیجا تھا اس کے بارے میں کیا کیا؟ مجھے تیرے ساتھ گفتگو کرنے سے صرف اس چیز نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ زہیر نے کہا، ابوزبیر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے تو ابوزبیر رضی اللہ عنہ نے بنو مصطلق کی طرف اشارہ کیا اور انہوں نے ہاتھ سے غیر قبلہ کی طرف اشارہ کیا (یعنی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف نہیں تھا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1206]
ترقیم فوادعبدالباقی: 540
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 540 ترقیم شاملہ: -- 1207
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَوَجْهُهُ، عَلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".
حماد بن زید نے کثیر (بن شنظیر) سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے، آپ نے مجھے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کا رخ قبلے کی بجائے دوسری طرف تھا، میں نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو فرمایا: تمہارے سلام کا جواب دینے سے مجھے صرف اس بات نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1207]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ غیر قبلہ کی طرف تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: مجھے تجھے سلام کا جواب دینے سے صرف اس چیز نے روکا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 540
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 540 ترقیم شاملہ: -- 1208
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّاد.
عبدالوارث بن سعید نے کہا: ہمیں کثیر بن شنظیر نے حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا (آگے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1208]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1208]
ترقیم فوادعبدالباقی: 540
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں