🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب من فضائل عثمان بن عفان رضي الله عنه:
باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2402 ترقیم شاملہ: -- 6210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ: " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ، فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي لَمْ أَرَكَ، فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید بن عاص سے روایت کی، انہیں سعید بن عاص نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لیے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اپنے کپڑے اپنے اوپر اکھٹے کر لو۔ پھر میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ کیا اور واپس آگیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اس طرح ہڑبڑا کر اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اٹھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان انتہائی حیادار ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6210]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی،اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی،حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بات کی،پھر چلے گئے،ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت طلب کی،آپ نے اجازت دے دی۔وہ بھی جس کام کے لئے آئے تھے،وہ کیا،پھر چلے گئے۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا:"اپنے کپڑے اپنے اوپر اکھٹے کرلو۔"پھر میں جس کام کے لئے آیا تھا وہ کیا اور واپس آگیا توحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اس طرح ہڑ بڑا کے اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے اٹھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"عثمان انتہائی حیادار ہیں،مجھے ڈر تھا کہ میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کرسکیں گے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2402
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2402 ترقیم شاملہ: -- 6211
وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید بن عاص نے بتایا، انہیں سعید بن عاص نے خبر دی کہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حاضر ہونے کی) اجازت طلب کی، پھر زہری سے عقیل کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6211]
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتے ہیں کہ ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی،آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2402
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں