صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب من فضائل طلحة والزبير رضي الله عنهما:
باب: سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2415 ترقیم شاملہ: -- 6243
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ".
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن لوگوں کو پکارا: (کون ہے جو ہمیں دشمنوں کے اندر کی خبر دے گا؟) تو زبیر رضی اللہ عنہ آگے آئے (کہا: میں لاؤں گا) پھر آپ نے ان کو (دوسری بار) پکارا تو زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے پھر ان کو (تیسری بار) پکارا تو بھی زبیر رضی اللہ عنہ ہی آگے بڑھے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا حواری (خاص مددگار) ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6243]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے روز لوگوں کے ایک کام کے لیے دعوت دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،میں حاضر ہوں،آپ نے پھردعوت دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعوت قبول کرلی،آپ نے پھر لوگوں کو دعوت دی تو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لبیک کہا،چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ہر نبی کے خصوصی مددگار ہوتے ہیں اور میرا حواری خصوصی معاون،زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6243]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2415 ترقیم شاملہ: -- 6244
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ہشام بن عروہ اور سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6244]
یہی روایت امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6244]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2415
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة