صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب المسح على الخفين:
باب: موزوں پر مسح کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 626
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: مَكَانَ حِينَ، حَتَّى.
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے نافع بن جبیر سے، انہوں نے عروہ بن مغیرہ سے، انہوں نے اپنے والد مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت کے لیے نکلے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے برتن لے کر آئے جس میں پانی تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہو گئے تو انہوں نے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔“ ابن رمح رحمہ اللہ کی روایت میں «حب» کے بجائے ”یہاں تک کہ (آپ فارغ ہو گئے)“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 626]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا، جب حاجت سے فارغ ہوئے، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے پانی ڈالا اور آپ نے وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابن رمح رحمہ اللہ کی روایت ”حین“ کی جگہ «حتى فرغ» ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 626]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 627
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
یحییٰ بن سعید کے ایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا، پھر موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 627]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 627]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 628
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، إِذْ نَزَلَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ كَانَتْ مَعِي، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ".
اسود بن ہلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سواری سے) اترے اور قضائے حاجت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میرے پاس تھا ”پانی ڈالا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور آپ نے موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 628]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ اسی اثنا میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ اترے اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے اس برتن سے جو میرے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 629
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ، خُذْ الإِدَاوَةَ، فَأَخَذْتُهَا، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم (بن صبیح ہمدانی) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! پانی کا برتن لے لو۔“ میں نے برتن لے لیا، پھر آپ کے ساتھ نکلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے، قضائے حاجت کی، پھر آپ واپس آئے، آپ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا، آپ اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرنے لگے (مگر) وہ (جبہ) تنگ (ثابت) ہوا۔ آپ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا، پھر میں نے پانی ڈالا تو آپ نے نماز جیسا وضو فرمایا، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 629]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ایک سفر میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو آپ نے فرمایا: ”اے مغیرہ! پانی کا برتن لو۔“ میں نے برتن لے لیا اور آپ کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، یہاں تک کہ مجھ سے چھپ گئے۔ اپنی ضرورت پوری کی، پھر آپ واپس آئے اور آپ تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، تو آپ اس آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے لگے، وہ اس سے تنگ نکلا (ہاتھ نہ نکل سکا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو نیچے سے نکال لیا، میں نے آپ کے اعضاء پر پانی ڈالا، تو آپ نے نماز والا وضو فرمایا، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 630
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جميعا، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ إِسْحَاق، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا ".
اعمش سے (ابومعاویہ کے بجائے) عیسیٰ بن یونس نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا، میں نے پانی ڈالا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے، ان کو دھویا، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 630]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے تو جب واپس آئے، میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا، اور آپ کے اعضاء پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھونے لگے، تو جبہ تنگ نکلا، تو آپ نے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکال لیے اور ان کو دھویا، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 630]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ، فَقَالَ لِي: أَمَعَكَ مَاء؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا ".
زکریا نے عامر (شعبی) سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: ایک رات میں سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے، پھر پیدل چل دیے یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے، پھر (واپس) آئے تو میں نے برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے اپنا چہرہ دھویا (اس وقت) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا: ”ان کو چھوڑو، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے۔“ اور ان پر مسح فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 631]
حضرت عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: کہ ایک رات، ایک سفر میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تو آپ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے، پھر چل دیے، یہاں تک کہ رات کی سیاہی میں مجھ سے چھپ گئے، پھر واپس آئے، تو میں نے برتن سے آپ پر پانی ڈالا۔ آپ نے اپنا چہرہ دھویا، اور آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ اس سے (تنگ ہونے کی وجہ سے) اپنے ہاتھ نہ نکال سکے، حتیٰ کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا، اور اپنے (کہنیوں سمیت) ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر میں جھکا تاکہ آپ کے موزے اتاروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو چھوڑیے! میں نے دونوں پاؤں دھو کر پہنے تھے۔“ اور ان پر مسح فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 631]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 632
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ وَضَّأَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ: فَقَالَ: " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ ".
عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں (مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ مغیرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) بات کی تو آپ نے فرمایا: ”میں نے انہیں باوضو حالت میں (موزوں میں) داخل کیا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروایا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے موزے اتارنے کا اشارہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ان کو پاؤں دھو کر پہنا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 632]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 633
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيع ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، وَوَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، وَرَكِبْتُ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلَاةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ، فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا ".
حمید الطویل نے کہا: ہمیں بکر بن عبداللہ مزنی نے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (قافلے سے) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا: ”کیا تمہارے ساتھ پانی ہے؟“ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا، اپنے دونوں بازو دھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا، پھر آپ سوار ہوئے اور میں (بھی) سوار ہوا، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ نماز کے لیے کھڑے تھے، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کی تشریف آوری) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا (کہ نماز پوری کرو) تو انہوں نے نماز پڑھا دی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے ہو چکی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 633]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا، تو جب قضائے حاجت سے فارغ ہوئے، پوچھا: ”کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ تو میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا، پھر دونوں بازو (کلائیاں) کھولنے لگے، تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئیں، آپ نے اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا، اور اپنی دونوں بازو (کلائیاں) دھوئیں اور اپنی پیشانی اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا، پھر آپ سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا اور ہم لوگوں کے پاس اس حال میں پہنچے کہ وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز کے لیے کھڑے ہو چکے تھے، اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک رکعت پڑھا دی تھی۔ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو محسوس کیا، تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ نے اشارہ کیا (نماز پوری کرو)، تو انہوں نے نماز پڑھا دی، جب سلام پھیرا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں بھی کھڑا ہو گیا، اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے ہو چکی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 633]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 634
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ، وَعَلَى عِمَامَتِهِ ".
امیہ بن بسطام اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، کہا: مجھے بکر بن عبداللہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے واسطے سے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں، اپنے سر کے سامنے کے حصے اور اپنے عمامے پر مسح فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 634]
ہمیں امیہ بن بسطام رحمہ اللہ اور محمد بن عبدالعالیٰ رحمہ اللہ دونوں نے معتمر رحمہ اللہ کے واسطہ سے، اس کے باپ کی بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ سے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں، اپنے سر کے سامنے کے حصہ اور اپنی پگڑی پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 952
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جميعا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَلَ الْغَائِطِ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ، أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ، حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى لَهُمْ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: أَحْسَنْتُمْ، أَوَ قَالَ: قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ، أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ".
عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ نے خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے۔ مغیرہ نے کہا: صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازو جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح (کر کے) وضو (مکمل) کیا، پھر آپ آگے بڑھے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر چکے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی، چنانچہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ یا فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا۔“ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 952]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں صبح کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانی کا برتن اٹھا کر چلا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس لوٹے تو میں برتن (لوٹا) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، اس کے بعد اپنے بازوؤں سے جبہ اتارنے لگے، آستینیں تنگ نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ اپنے بازو جبے کے نیچے سے نکال لیے، اور ان کو کہنیوں سمیت دھویا، پھر موزوں کے اوپر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا، (ہم نے پہنچ کر) لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کر چکے تھے، انہوں نے نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رکعت ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی تو جب عبدالرحمن بن عوف نے سلام پھیرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے، مسلمان اس سے گھبرا گئے (پریشان ہو گئے) اور انہوں نے کثرت سے «سُبْحَانَ اللَّهِ» کہنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا ”تم نے ٹھیک کیا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے وقت پر نماز پڑھنے کو قابل رشک قرار دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 952]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 274 ترقیم شاملہ: -- 953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ.
اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے۔ (اس میں یہ بھی ہے کہ) مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (آگے) رہنے دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 953]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اس میں ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو پیچھے ہٹانا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو“، (نماز پڑھانے دو)۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 953]
ترقیم فوادعبدالباقی: 274
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة