Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب المسح على الناصية والعمامة:
باب: پیشانی اور پگڑی پر مسح کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 581
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ، لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ، وَلَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ، كَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا، لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنَ الأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ".
مروان نے ابومالک اشجعی سعد بن طارق سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور (اس کا پانی) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، (یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے، اس لیے) میں (امت کے علاوہ دوسرے) لوگوں کو اس سے روکوں گا، جیسے آدمی اپنے حوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 581]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلہ سے زیادہ بڑا ہے، اور (اس کا پانی) یقیناً برف سے زیادہ سفید اور شہد ملے ہوئے دودھ سے زیادہ شیریں ہے، اور اس کے برتنوں کی تعداد یقیناً ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہے، اور میں لوگوں کو اس سے روکوں گا جس طرح ایک انسان اپنے حوض سے دوسرے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! تمہارے لیے ایک علامت ہو گی، جو دوسری کسی امت میں نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثر سے روشن چہرے اور چمک دار ہاتھ پاؤں سے پہنچو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة امة محمد صلی اللہ علیہ وسلم برقم (4282) انظر ((التحفة)) برقم (13399)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 582
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ، وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، لَكُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا، مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْكُمْ، فَلَا يَصِلُونَ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، هَؤُلَاءِ مِنْ أَصْحَابِي، فَيُجِيبُنِي مَلَكٌ، فَيَقُولُ: وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ؟ ".
(مروان کے بجائے) ابن فضیل نے ابومالک اشجعی سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح (دوسرے) لوگوں کو اس (حوض) سے دور ہٹاؤں گا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی، تم میرے پاس وضو کے اثرات سے روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا اور کہے گا: کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کام ایجاد کیے تھے؟ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 582]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اس سے لوگوں کو ہٹاؤں گا۔ جیسے ایک مرد اپنے اونٹوں سے دوسرے انسان کے اونٹوں کو ہٹاتا ہے۔ انہوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی میں نہیں ہو گی۔ تم میرے پاس وضو کے اثرات کی بنا پر روشن چہرے، چمک دار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے۔ تم میں سے ایک گروہ کو میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ تو میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں۔ تو مجھے ایک فرشتہ جواب دے گا: اور کیا آپ جانتے ہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئے کام نکالے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 582]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (580)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 635
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا: ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی، انہوں نے بکر سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی۔ (بکر نے عروہ بن مغیرہ سے حسن کے حوالے سے بھی یہ روایت حاصل کی اور براہ راست بھی سنی۔) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 635]
ہمیں محمد بن عبدالعالیٰ رحمہ اللہ نے معتمر رحمہ اللہ کے واسطہ سے اس کے باپ رحمہ اللہ کی، بکر رحمہ اللہ سے حسن رحمہ اللہ کی، مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اس کے باپ کی روایت اوپر کی طرح بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 247 ترقیم شاملہ: -- 636
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جميعا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ بَكْرٌ : وَقَدْ سَمِعْتَ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَعَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى الْخُفَّيْنِ ".
یحییٰ بن سعید نے (سلیمان) تیمی سے، انہوں نے بکر بن عبداللہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی (بکر نے کہا: میں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے (بلاواسطہ بھی) سنا) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 636]
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 247
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں