صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب بيان معنٰي قوله صلى الله عليه وسلم : «علٰي راس مائة سنة لا يبقٰي نفس منفوسة ممن هو موجود الآن »
باب: ”جو لوگ اس وقت زندہ ہیں، سو سال بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا“ کا مطلب۔
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6481
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: " تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ، وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ، وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ ".
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات سے ایک مہینہ قبل یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو؟ اس کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے (البتہ اس بات پر) میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اس وقت کوئی زندہ نفس موجود نہیں جس پر سو سال پورے ہوں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6481]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی موت سے ایک ماہ قبل یہ سنا،"تم مجھے سے قیامت(وقوع کے) بارے میں دریافت کرتے ہو،اس کاعلم تو بس اللہ ہی کو ہے اورمیں اللہ کی قسم کھاکرکہتا ہوں،زمین پر کوئی زندہ نفس نہیں ہے،جس پر سو سال گزر جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6482
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ.
ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ ہمیں خبر دی اور اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ (آپ نے) اپنی وفات سے ایک ماہ قبل (یہ ارشاد فرمایا تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6482]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں اور اس میں موت سے قبل ایک ماہ کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6483
حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى كلاهما، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ ". وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: نَقْصُ الْعُمُرِ.
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، کہا: ابونضرہ نے ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: آپ نے اپنی وفات سے ایک مہینہ یا قریباً اتنا عرصہ پہلے فرمایا: ”آج کوئی ایسا سانس لیتا ہوا انسان موجود نہیں کہ اس پر سو سال گزریں تو وہ اس دن بھی زندہ ہو۔“ اور لوگوں کو پانی پلانے والے عبدالرحمان (بن آدم) سے روایت ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ عبدالرحمان نے اس کا مفہوم بتایا اور کہا: عمر کی کمی (مراد ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6483]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتےہیں،کہ آپ نے اپنی موت سے ایک ماہ پہلے یا اس کے قریب فرمایا:"آج جو نفس زندہ ہے،اس پر سو سال زندہ ہونے کی حالت میں نہیں آئیں گے،" [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6484
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ.
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے دونوں سندوں سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6484]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالاروایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2538 ترقیم شاملہ: -- 6486
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ "، فَقَالَ سَالِمٌ: تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ عِنْدَهُ، إِنَّمَا هِيَ كُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ.
حصین نے سالم سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(آج) سانس لیتا ہوا شخص سو سال (کی مدت) تک نہیں پہنچے گا۔“ سالم نے کہا: ہم نے ان (حضرت جابر رضی اللہ عنہ) کے سامنے اس کے بارے میں گفتگو کی اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس وقت پیدا ہو چکا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"زندہ نفسوں میں سے کوئی سو سال کو نہیں پہنچے گا۔"حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،ہم نے ان کے سامنے اس کایہ معنی ایک دوسرے کا بتایا،اس کا مقصد یہ ہے،اس دن جو مخلوق زندہ تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2538
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة