🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب حكم المني:
باب: منی کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 289 ترقیم شاملہ: -- 672
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ الْمَنِيِّ، يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ، أَيَغْسِلُهُ، أَمْ يَغْسِلُ الثَّوْبَ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فِي ذَلِكَ الثَّوْبِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْغَسْلِ فِيهِ ".
محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا (پورے) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں (سلیمان بن یسار) نے کہا: مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کپڑے سے) منی کو دھوتے، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 672]
عمرو بن میمون رحمہ اللہ کا قول ہے کہ میں نے سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے انسان کے کپڑے کو لگ جانے والی منی کے بارے میں پوچھا کہ کیا انسان اس کو دھوئے گا یا کپڑے کو دھوئے گا؟ تو اس نے کہا، مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی دھلواتے، پھر اس کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور مجھے اس میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 672]
ترقیم فوادعبدالباقی: 289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 289 ترقیم شاملہ: -- 673
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ كلهم، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَمَّا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ فَحَدِيثُهُ، كَمَا قَالَ ابْنُ بِشْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَغْسِلُ الْمَنِيَّ "، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، فَفِي حَدِيثِهِمَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عبدالواحد بن زیاد، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح (یہ) ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی (خود) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبدالواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 673]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ سے روایت بیان کرتے ہیں، ابن ابی زائدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی دھوتے تھے لیکن ابن مبارک رحمہ اللہ اور عبدالواحد رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 673]
ترقیم فوادعبدالباقی: 289
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں