صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب كيفية الخلق الآدمي في بطن امه وكتابة رزقه واجله وعمله وشقاوته وسعادته:
باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2647 ترقیم شاملہ: -- 6731
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ، فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا وَقَدْ كَتَبَ اللَّهُ مَكَانَهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا وَقَدْ كُتِبَتْ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً "، قَالَ: فَقَالَ رَجَلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَمْكُثُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ؟ فَقَالَ: مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ فَسَيَصِيرُ إِلَى عَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، فَقَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ أَمَّا أَهْلُ السَّعَادَةِ، فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا أَهْلُ الشَّقَاوَةِ فَيُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى {7} وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى {8} وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى {9} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى {10} سورة الليل آية 5-10.
جریر نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے سعید بن عبیدہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے (جس طرح کہ فکر مندی کے عالم میں ہوں۔) پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں، کوئی سانس لینے والا جاندار شخص نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے (اپنے ازلی ابدی حتمی علم کے مطابق) جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانا لکھ دیا ہے اور (کوئی نہیں) مگر (یہ بھی) لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بدبخت ہے یا خوش بخت۔“ کہا: تو کسی آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے لکھے پر ہی نہ رہ جائیں اور عمل چھوڑ دیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”جو خوش بختوں میں سے ہو گا تو وہ خوش بختوں کے عمل کی طرف چل پڑے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عمل کرو، ہر ایک کا راستہ آسان کر دیا گیا ہے۔ جو خوش بخت ہیں ان کے لیے خوش بختوں کے اعمال کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے اور جو بدبخت ہیں ان کے لیے بدبختوں کے عملوں کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کیا: ”پس وہ شخص جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کر دی تو ہم اسے آسانی کی زندگی (تک پہنچنے) کے لیے سہولت عطا کریں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پروائی اختیار کی اور اچھی بات کی تکذیب کی تو ہم اسے مشکل زندگی (تک جانے) کے لیے سہولت دیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6731]
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک جنازہ کے سلسلہ میں بقیع غرقد میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم آپ نے ارد گردبیٹھ گئے اور آپ کے پاس ایک چھڑی تھی چنانچہ آپ نے سر جھکا لیا اور اپنی چھڑی سے زمین کرید نے لگے پھر فرمایا،"تم میں سے ہر ایک شخص اور ہر جان دار، نفس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ میں اللہ نے لکھا دیا ہے اور یہ بھی لکھ دیا گیا ہےبد بخت ہے یا نیک بخت "ایک آدمی نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے نوشتہ پر نہ ٹھہر جائیں اور عمل چھوڑدیں۔؟"تو آپ نے فرمایا:"جو اہل سعادت میں سے ہے وہ یقیناً اہل سعادت والے اعمال کی طرف رخ کرے گا اور جو اہل شقاوت میں سے ہیں وہ یقیناً اہل شقاوت کے اعمال کی طرف چلے گا۔"اور آپ نے فرمایا:"عمل کرو، ہر ایک کے لیے آسان ہوگا،پس جو کوئی اہل سعادت سے ہے تو ان کے لیے اہل سعادت والے کام آسان کردئیے جائیں گے اور رہے اہل شقاوت تو ان کے لیے اہل شقاوت والے اعمال آسان کردئیے جائیں گے۔"پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی،"پس جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور حدود الٰہی کی پابندی کی اور اچھی بات (شریعت)کی تصدیق کی تو ہم اس کو چین و راحت کی زندگی یعنی جنت حاصل کرنے کی توفیق دیں گےاور پس جس نے بخل سے کام لیا اور بے نیازی اختیار کی اور اچھی بات (دعوت اسلام) کو جھٹلایا تو ہم اس کے لیے تکلیف دہ اور دشواری والی زندگی یعنی دوزخ کی طرف چلنا آسان کردیں گے۔"(سورۃ اللیل آیت نمبر5تا10) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6731]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2647 ترقیم شاملہ: -- 6732
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَأَخَذَ عُودًا، وَلَمْ يَقُلْ مِخْصَرَةً، وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابواحوص نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی پکڑی اور چھڑی نہیں کہا۔ اور ابن ابی شیبہ نے ابواحوص سے بیان کردہ اپنی حدیث میں (”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے“ کی جگہ) کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6732]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث اپنے دواور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور اس میں مخصرہ کی جگہ عود(لکڑی)ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2647 ترقیم شاملہ: -- 6733
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَ نَعْمَلُ أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} سورة الليل آية 5-6 إِلَى قَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 10 ".
وکیع، عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے سعد بن عبیدہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعبدالرحمان سلمی سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ نے اپنا سر اقدس اٹھا کر فرمایا: ”تم میں سے کوئی ذی روح نہیں مگر جنت اور دوزخ میں اس کا مقام (پہلے سے) معلوم ہے۔“ انہوں (صحابہ) نے عرض کی: اللہ کے رسول! پھر ہم کس لیے عمل کریں؟ ہم اسی (لکھے ہوئے) پر تکیہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم عمل کرو، ہر شخص کے لیے اسی کی سہولت میسر ہے جس (کو خود اپنے عمل کے ذریعے حاصل کرنے) کے لیے اس کو پیدا کیا گیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”تو وہ شخص جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور اچھی بات کی تصدیق کی“ سے لے کر ”تو ہم اسے مشکل زندگی (تک جانے) کے لیے سہولت دیں گے“ تک پڑھا۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6733]
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف فر تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، جس سے آپ کرید رہے تھےچنانچہ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا:"تم میں سے ہر جاندار (شخص کی جگہ جنت اور دوزخ میں جانی جا چکی ہے۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو پھر عمل کس لیے ہیں؟ تو کیا ہم بھروسہ نہ کر لیں؟آپ نے فرمایا:"نہیں عمل کرتے رہو کیونکہ ہر ایک کو اس کی توفیق ملے گی۔جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔"پھر آپ نے پڑھا۔"جس نے اللہ کی راہ میں تقوی اختیار کیا، اچھی بات (دعوت اسلام قبول کر لیا تو ہم اس کے لیے دشواری اور تکلیف والی زندگی (دوزخ) کی طرف چلنا آسان کردیں گے۔"(اللیل آیت نمبر5تا10) [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2647 ترقیم شاملہ: -- 6734
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ہمیں شعبہ نے منصور اور اعمش سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، وہ ابوعبدالرحمان سلمی سے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6734]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6734]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2647
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة