🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب الدليل على نجاسة البول ووجوب الاستبراء منه:
باب: پیشاب کی نجاست پر دلیل اور اس سے بچنا واجب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 292 ترقیم شاملہ: -- 677
حَدَّثَنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرَيْنِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ "، قَالَ: فَدَعَا بِعَسِيبٍ رَطْبٍ، فَشَقَّهُ بِاثْنَيْنِ، ثُمَّ غَرَسَ عَلَى هَذَا وَاحِدًا، وَعَلَى هَذَا وَاحِدًا، ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ".
وکیع نے بیان کیا، (کہا:) ہمیں اعمش نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے مجاہد کو طاؤس سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ نے فرمایا: ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی غلطی کی بنا پر عذاب نہیں ہو رہا (جس سے بچنا دشوار ہوتا۔) ان میں ایک تو چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر آپ نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو دو حصوں میں چیر دیا، پھر ایک حصہ اس قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا اس (دوسری قبر) پر، پھر آپ نے فرمایا: امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں، ان کا عذاب ہلکا رہے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 677]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو قبروں پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور کسی ایسی چیز کی بنا پر عذاب نہیں ہو رہا جس سے بچنا دشوار ہو، رہا ان میں ایک تو وہ لگائی بجھائی کرتا تھا، اور دوسرا تو وہ اپنے بول سے نہیں بچتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو چیر کر دو کر دیا، پھر ایک ایک قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا، دوسری قبر پر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں، ان کا عذاب ہلکا رہے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 677]
ترقیم فوادعبدالباقی: 292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 292 ترقیم شاملہ: -- 678
حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَكَانَ الآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنِ الْبَوْلِ، أَوْ مِنَ الْبَوْلِ.
عبدالواحد نے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی، سوائے اس کے کہ کہا: اور دوسرا پیشاب (اپنے کپڑوں یا جسم) کی طرف سے (بچنے کا اہتمام نہیں کرتا۔) [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 678]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں کہ دوسرا «لا يستنزہ عن البول أو من البول»، بول سے احتیاط اور پرہیز نہیں کرتا تھا۔ پہلی حدیث میں «لا يستتر من بوله» کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الطهارة/حدیث: 678]
ترقیم فوادعبدالباقی: 292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں