صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الدعاء عند النوم
باب: سوتے وقت کی دعا۔
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6882
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ: فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ "، قَالَ: فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ، فَقُلْتُ: آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: قُلْ: آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،
منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹو، پھر یہ کہو: «اللہم اسلمت وجہی الیک وفوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی، یہ سب تیری طرف سے امید اور تیرے خوف کے ساتھ کیا۔ تیرے سوا تجھ سے نہ کہیں پناہ مل سکتی ہے، نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا۔ ان کلمات کو تم (اپنی زبان سے ادا ہونے والے) آخری کلمات بنا لو (ان کے بعد اور کچھ نہ بولو) تو اس رات اگر تمہیں موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے انہیں دہرایا تو کہا: ”میں تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یوں) کہو: میں تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6882]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::"جب اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرو تو نماز والا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا پڑھو، اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیر ی طرف متوجہ کیا اور اپنے تمام امور تیرے حوالہ کر دئیے اور تجھ ہی کو اپنا پشت پناہ لیا، اپنی ٹیک تیری طرف لگا دی، تیرے رحم و کرم کی امید کرتے ہوئے اور تیرے جلال و عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیری گرفت سے بچنے کے لیے،تیرے سواکوئی جائے پناہ اور بچاؤ کی جگہ نہیں، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا، جو تونے اتاری اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جس کو تونے بھیجا، یہ وہ تیرا آخری بول ہویعنی اس کے بعد گفتگونہ کرنا تو اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے تو تم اس حال میں فوت ہو گئے کہ تم فطرت (دین اسلام) پر ہوگے۔" حضرت براء کہتے ہیں میں نے یاد کرنے کے لیے ان کلمات کو دہرانا شروع کر دیا تو میں نے کہا:میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے، آپ نے فرمایا:"یوں کہو، میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تونے بھیجا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6883
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ، وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا.
حصین بن سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، مگر منصور نے زیادہ مکمل حدیث بیان کی اور حصین کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”اگر یہ (کہنے والا) صبح کرے گا تو خیر حاصل کرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6883]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن مذکورہ بالا روایت زیادہ مکمل ہے اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے۔" اگر وہ صبح کرے گا،اسے خیرو بھلائی حاصل ہو گی۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ مِنَ اللَّيْلِ،
محمد بن مثنیٰ نے ابوداؤد سے اور ابن بشار نے عبدالرحمان اور ابوداؤد دونوں سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، وہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ رات کو اپنی خواب گاہ میں جانے لگے تو (دعا کرتے ہوئے) یہ کہے: «اللہم اسلمت نفسی الیک ووجہت وجہی الیک والجأت ظہری الیک وفوضت امری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، یہ سب تجھی سے امید کرتے ہوئے اور تجھی سے ڈرتے ہوئے کیا۔ تجھ سے خوف کے سوا نہ پناہ کی کوئی جگہ ہے نہ نجات کی۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا، پھر اگر (اس رات) اسے موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ ابن بشار نے اپنی حدیث میں: ”رات کے وقت“ (بستر پر جانے لگے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6884]
حضرت براء عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا جب وہ رات کو اپنے بستر پر جانے کا ارادہ کرے تو یوں کہے:"اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا چہرہ (رخ) تیری طرف متوجہ کیا اور اپنی پشت کی ٹیک تیری طرف کر دی اور اپنے تمام معاملات تیرے حوالہ کر دئیے تیرے(ثواب) کی رغبت و شوق اور تیری پکڑسے ڈرتے ہوئے تیرے علاوہ تجھ سے بچنے کے لیے کوئی ٹھکانہ اور نجات کی جگہ نہیں ہے میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا، جوتونے نازل کی ہے اور اس رسول پر جسے تو نے بھیجا سوا گروہ مر گیا تو دین پر مرے گا۔"ابن بشار نے اپنی حدیث من اللیل (رات کو) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6885
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَا فُلَانُ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا،
ابواحوص نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! جب تم اپنے بستر پر لیٹنے لگو۔۔۔“ اس کے بعد عمرہ بن مرہ کی حدیث کے مانند ہے۔ (مگر ابواحوص نے منصور کی روایت کی طرح) یہ الفاظ کہے: ”(اور میں ایمان لایا) تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا، پھر اگر تم اس رات مر گئے تو (عین) فطرت پر مرو گے اور اگر تم نے (زندہ حالت میں) صبح کر لی تو خیر (و بھلائی) حاصل کرو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6885]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا:"اے فلاں جب تم اپنے بستر پر جانا چاہو۔"آگے بذکورہ بالا اس فرق کے ساتھ ہے، آپ نے فرمایا:"اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا، اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے، فطرت پر فوت ہو گئے اور اگر صبح کرو گے تو خیر پاؤ گے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6885]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2710 ترقیم شاملہ: -- 6886
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا.
شعبہ نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اسی کے مانند، اور انہوں نے ”اگر تم نے (زندہ حالت میں) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6886]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا،آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں یہ لفظ نہیں ہیں:"اور اگر تم صبح اٹھو گے۔خیر پاؤ گے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6886]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2710
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة