🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب المذي:
باب: مذی کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 303 ترقیم شاملہ: -- 695
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ، وَيَتَوَضَّأُ ".
وکیع، ابومعاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے (جن کی کنیت ابویعلیٰ ہے) انہوں نے ابن حنفیہ سے، انہوں نے (اپنے والد) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے مذی (منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے (ساتھ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا، انہوں نے آپ سے پوچھا، آپ نے فرمایا: (اس میں متبلا آدمی) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 695]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے بہت مذی آتی تھی، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر کے اپنی بیوی ہونے کے باعث، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست پوچھنے سے شرماتا تھا، تو میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس میں مبتلا آدمی) اپنا عضو دھو لے اور وضو کر لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 695]
ترقیم فوادعبدالباقی: 303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 303 ترقیم شاملہ: -- 696
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُنْذِرًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ، مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " مِنْهُ الْوُضُوءُ ".
شعبہ نے سلیمان اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ رشتے) کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھنے میں شرم محسوس کی تو میں نے مقداد کو کہا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ نے فرمایا: اس سے وضو (کرنا پڑتا) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 696]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باعث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھنے سے شرم محسوس کی، تو میں نے مقداد رضی اللہ عنہ کو کہا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو کرنا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 696]
ترقیم فوادعبدالباقی: 303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 303 ترقیم شاملہ: -- 697
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الإِنْسَانِ، كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، انہوں نے آپ سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان (کے عضو مخصوص) سے خارج ہوتی ہے کہ وہ اس کا کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو۔ (ترتیب میں پہلے دھونا، پھر وضو کرنا ہے جس طرح حدیث: 695 میں ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 697]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انسان سے نکلنے والی مذی کے بارے میں پوچھا کہ وہ اس کا کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر اور شرم گاہ کو دھو لے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 697]
ترقیم فوادعبدالباقی: 303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں