صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب صفات المنافقين واحكامهم
باب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام۔
ترقیم عبدالباقی: 2780 ترقیم شاملہ: -- 7038
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَصْعَدُ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ، فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ "، قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَكُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ "، فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ، قَالَ: وَكَانَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں قرہ بن خالد نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اس گھاٹی (یعنی) مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا! بے شک اس کے گناہ بھی اسی طرح جھڑ جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ جھڑ گئے تھے۔“ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: تو سب سے پہلے جو اس گھاٹی پر چڑھے وہ ہمارے بنو خزرج کے گھوڑے تھے، پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب وہ ہو جن کے گناہ بخش دیے گئے، سوائے سرخ اونٹ والے شخص کے۔“ ہم اس کے پاس آئے اور (اس سے) کہا: آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بھی استغفار فرمائیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں اپنی گم شدہ چیز پاؤں تو یہ بات مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ تمہارا صاحب میرے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: وہ آدمی اس وقت اپنی گم شدہ چیز کو ڈھونڈنے کے لیے آوازیں لگا رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7038]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھاٹی پر یعنی مرار کی گھاٹی پر کون چڑھے گا،کیونکہ اس سے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے، جس طرح بنو اسرائیل سے جھڑ گئے تھے تو اس پر سب سے پہلے ہمارے یعنی خزرج کے گھوڑے چڑھے پھر لوگوں کا تانتابندھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم سب کو بخش دیا جائے گا سوائےسرخ اونٹ والے کے۔"چنانچہ ہم اس کے پاس آئے اور اسے کہا، آؤتاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے بخشش طلب کریں تو اس نے کہا، واللہ!میرے لیے میری گمشدہ چیز کامل جانا،اس سے زیادہ محبوب ہے تمھارا ساتھی میرے لیے بخشش طلب کرے، اور وہ آدمی اپنی گمشدہ چیز تلاش کررہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2780
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2780 ترقیم شاملہ: -- 7039
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَصْعَدُ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ أَوِ الْمَرَارِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَإِذَا هُوَ أَعْرَابِيٌّ جَاءَ يَنْشُدُ ضَالَّةً لَهُ.
یحییٰ بن حبیب حارثی نے ہمیں یہی حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد بن حارث نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں قرہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو مرار کی گھاٹی پر چڑھے گا۔“ (آگے) معاذ عنبری کی حدیث کے مانند، البتہ (اس حدیث میں) انہوں نے کہا: اور وہ ایک اعرابی تھا جو اپنی گم شدہ چیز ڈھونڈنے کے لیے اعلان کرنے کے لیے آیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7039]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ثنیہ مرار یا مرار پر کون چڑھے گا؟"آگے مذکورہ روایت ہے،ہاں یہ فرق ہے اس میں یہ ہے کہ وہ ایک جنگلی تھا جو اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 7039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2780
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة