صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب سؤال اليهود النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح وقوله تعالى: {يسالونك عن الروح} الآية:
باب: یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو وحی الٰہی کے مطابق جواب۔
ترقیم عبدالباقی: 2794 ترقیم شاملہ: -- 7059
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ، " إِذْ مَرَّ بِنَفَرٍ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ، فَقَالُوا: مَا رَابَكُمْ إِلَيْهِ لَا يَسْتَقْبِلُكُمْ بِشَيْءٍ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالُوا: سَلُوهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرُّوحِ، قَالَ: فَأَسْكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، قَالَ: فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ، قَالَ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85 "،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابراہیم نے علقمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کھیت میں چلا جا رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لے (کر چل) رہے تھے کہ آپ کا یہود کے چند لوگوں کے قریب سے گزر ہوا ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان سے روح کے بارے میں سوال کرو پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان کے بارے میں تمہیں شک کس بات کا ہے؟ ایسا نہ ہو کہ وہ آگے سے ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں بری لگے پھر ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر آپ کے پاس آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (تھوڑی دیر کے لیے) خاموش ہو گئے اور ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ کہا میں بھی اپنی جگہ پر (رک کر) کھڑا ہو گیا۔ جب وحی نازل ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ پڑھتے ہوئے) فرمایا: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» ”یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تم (انسانوں) کو بہت کم علم دیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7059]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، ایک کھیت میں چل رہا تھا اور آپ نے کھجور کی چھڑی کا سہارا لیا ہوا تھا تو آپ یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے تو انھوں نے ایک دوسرے سے کہا، ان سے روح کے بارے میں سوال کرو، دوسروں نے کہا:" تمھیں ان سے یہ سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے۔؟وہ تمھیں ایسا جواب نہ دے دیں، جو تمھیں ناپسندہو، دوسروں نے کہا، ان سے سوال کرو تو ان میں بعض نے آپ کے پاس آکر، آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا تو میں جان گیا کہ آپ کی وحی نازل کی جارہی ہے تو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، چنانچہ جب وحی اتر چکی، آپ نے فرمایا:"وہ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرماد یجیے روح میرے رب کے امر سے ہے اور تم بہت ہی کم علم دئیے گئے ہو۔"(اسراء آیت نمبر85۔) [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2794 ترقیم شاملہ: -- 7060
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، بِنَحْوِ حَدِيثِ حَفْصٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ: وَمَا أُوتُوا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ خَشْرَمٍ،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابواشج نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، نیز ہمیں اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور علی بن خشرم نے بھی حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی۔ ان دونوں (وکیع اور عیسیٰ) نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک (اجڑے ہوئے) کھیت میں جا رہا تھا۔ حفص کی حدیث کے مانند مگر وکیع کی حدیث میں ہے: «وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» ”اور تم لوگوں کو علم کا تھوڑا حصہ ہی دیا گیا ہے۔“ (جس طرح قرآن کی مشہور متواتر قراءت ہے۔ اور عیسیٰ بن یونس کی اس روایت میں جو ان سے (علی بن خشرم) نے بیان کی ہے «وَمَا أُوتُوا» ”انہیں نہیں دیا گیا“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7060]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی کھیتی میں چل رہا تھا وکیع کی روایت میں ہے۔ "و اُوتِيتُم مِنَ العِلمِ " اور ابن خشرم کی روایت میں "وَمَا اُوتُوا" ان کو نہیں دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7060]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2794 ترقیم شاملہ: -- 7061
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.
ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن ادریس سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے اعمش سے سنا وہ اس روایت کو عبداللہ بن مرہ سے اور وہ مسروق سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں میں (کھجور کی) ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے (چلے جا رہے) تھے پھر اعمش سے ان سب کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور انہوں نے اپنی روایت میں مشہور اور متواتر قرآءت کے مطابق «وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا» ”اور تمہیں علم سے بہت کم دیا گیا ہے“ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7061]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نخلستان میں کھجور کی چھڑی کا سہارا لیے ہوئےتھے۔آگے مذکورہ بالا روایت ہے، اور اس روایت میں ہے۔"و اُوتِيتُم مِنَ العِلمِ الَا قَلَيلاً"تمھیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2794
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة