صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب إثبات الحساب:
باب: حساب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2876 ترقیم شاملہ: -- 7225
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ "، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، فَقَالَ: " لَيْسَ ذَاكِ الْحِسَابُ إِنَّمَا ذَاكِ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ "،
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا ہو گیا۔“ میں نے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (الانشقاق: 8) ”عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے، جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب (میں ڈال) دیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7225]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا قیامت کے دن مناقشہ ہوا، (تو نے یہ کام کیوں کیا؟) اسے عذاب ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] ”اس کا جلد ہی آسان محاسبہ کیا جائے گا“ نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مناقشہ نہیں ہے، یہ تو بس پیشی ہے؛ جس کا قیامت کے دن حساب میں مناقشہ ہوا، اسے عذاب ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7225]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2876 ترقیم شاملہ: -- 7226
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
حماد بن زید نے کہا: ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7226]
اس قسم کی روایت مصنف دو اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7226]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2876 ترقیم شاملہ: -- 7227
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ إِلَّا هَلَكَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكِ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ "،
ابویونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (الانشقاق: 8) ”آسان حساب ہوگا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7227]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا محاسبہ ہو گیا وہ مارا گیا۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اللہ کا یہ فرمان ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] نہیں ہے کہ حساب یسیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ محض پیشی ہے، لیکن جس کا محاسبہ کے وقت مناقشہ ہو گیا، ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7227]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2876 ترقیم شاملہ: -- 7228
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ.
عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ پھر ابویونس کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7228]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا حساب وقتِ مناقشہ ہوا ہلاک ہو جائے گا۔“ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7228]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة