صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب ذكر ابن صياد:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2924 ترقیم شاملہ: -- 7344
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی ہے جو تمھارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7344]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چنانچہ ہمارا گزر بچوں کے پاس سے ہوا جن میں ابن صیاد بھی تھا، تو بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا، سو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ تو اس نے کہا: نہیں، بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں اس کو قتل کر دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی ہے جو تم سمجھتے ہو (یعنی دجال ہے) تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“ (کیونکہ دجال کو حضرت عیسیٰ نے قتل کرنا ہے) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2924 ترقیم شاملہ: -- 7345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا "، فَقَالَ: دُخٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمھارے لیے (دل میں) ایک بات چھپائی ہے۔“ وہ دُخَ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دور دفع ہو جا! تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکے گا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7345]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے (امتحان کے) لیے ایک چیز دل میں پوشیدہ رکھی ہے۔“ اس نے کہا: وہ «الدُّخُّ» ”دخ“ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذلیل و خوار رہ، تو ہرگز اپنی حیثیت سے تجاوز نہیں کر سکے گا۔“ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے چھوڑیے کہ میں اس کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑیے! اگر یہ وہ ہے جس کا تمہیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة