سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل
باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے۔ اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 20 (2919)، سنن النسائی/قیام اللیل 22 (1662)، والزکاة 68 (2562)، (تحفة الأشراف: 9949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2202)
إسماعيل بن عياش تابعه معاوية بن صالح عند النسائي (2562 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2202)
إسماعيل بن عياش تابعه معاوية بن صالح عند النسائي (2562 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فَكَشَفَ السِّتْرَ، وَقَالَ:" أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْقِرَاءَةِ، أَوْ قَالَ: فِي الصَّلَاةِ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: ”لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں (یا کہا نماز) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1332]
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ اونچی آواز سے قراءت کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور فرمایا: ”خبردار! تم بلاشبہ سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، مگر کوئی دوسرے کو ہرگز ایذا نہ دے اور قراءت میں اپنی آواز دوسرے پر بلند نہ کرے۔“ یا فرمایا: ”نماز میں (اپنی آواز بلند نہ کرے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/94) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (856)
صححه ابن خزيمة (1162 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (856)
صححه ابن خزيمة (1162 وسنده صحيح)