🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1434
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: أُوتِرُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَقَالَ لِعُمَرَ:" مَتَى تُوتِرُ"، قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ:" أَخَذَ هَذَا بِالْحَزْمِ"، وَقَالَ لِعُمَرَ:" أَخَذَ هَذَا بِالْقُوَّةِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں رات کے اول حصے میں پڑھتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وتر کس وقت پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں رات کے آخری حصے میں پڑھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: اس نے احتیاط کو اختیار کیا ہے۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: اس نے عزم و قوت کو اختیار کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12092) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس کو اپنے اوپر اعتماد ہو کہ اخیر رات میں جاگ جائے گا اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اخیر رات میں وتر پڑھے، لیکن جسے اخیر رات میں جاگنے پر بھروسہ نہ ہو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (1084 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (1329)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1436
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1436]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 226 (467)، (تحفة الأشراف:8132)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 20 (750)، مسند احمد 1(2/37، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (467 وسنده صحيح) وله طريق آخر عند مسلم (750)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں