سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في وقت الوتر
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1438
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 5 (998)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (751)، (تحفة الأشراف:8145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/20، 102، 143) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (998) صحيح مسلم (751)
حدیث نمبر: 1439
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے روزہ افطار کیا، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ”ایک رات میں دو وتر نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 227 (الوتر13) (470)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1680)، (تحفة الأشراف:5024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (470 وسنده صحيح) والنسائي (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1101 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (470 وسنده صحيح) والنسائي (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1101 وسنده صحيح)