یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب في وقت الوتر
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1438
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1438]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 5 (998)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (751)، (تحفة الأشراف:8145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/20، 102، 143) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (998) صحيح مسلم (751)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله أحمد بن حنبل الشيباني ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ فقيه حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
998
| اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا |
صحيح مسلم |
1754
| من صلى من الليل فليجعل آخر صلاته وترا |
صحيح مسلم |
1756
| من صلى من الليل فليجعل آخر صلاته وترا |
صحيح مسلم |
1755
| اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا |
سنن أبي داود |
1438
| اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا |
سنن النسائى الصغرى |
1683
| من صلى من الليل فليجعل آخر صلاته وترا |
بلوغ المرام |
303
| اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1438 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1438
1438. اردو حاشیہ:
➊ جسے یقین ہو کہ وہ صبح سے پہلے اُٹھ سکتا ہے۔ تو وہ اس ارشاد پر عمل کرکے فضیلت کا ثواب حاصل کرے۔ ورنہ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی رخصت معلوم ہے۔ جیسے کے پیچھے گزرا۔
➋ اس حدیث سے استدلال کرکے کہا گیا ہے کہ وتر پڑھنے کے بعد کوئی نفلی نماز پڑھنی جائز نہیں۔ لیکن دوسرے علماء نے اس کو استحباب پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا ثابت ہے۔
➊ جسے یقین ہو کہ وہ صبح سے پہلے اُٹھ سکتا ہے۔ تو وہ اس ارشاد پر عمل کرکے فضیلت کا ثواب حاصل کرے۔ ورنہ سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی رخصت معلوم ہے۔ جیسے کے پیچھے گزرا۔
➋ اس حدیث سے استدلال کرکے کہا گیا ہے کہ وتر پڑھنے کے بعد کوئی نفلی نماز پڑھنی جائز نہیں۔ لیکن دوسرے علماء نے اس کو استحباب پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1438]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1683
وتر کے وقت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1683]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1683]
1683۔ اردو حاشیہ: ان روایات سے معلوم ہوا کہ وتر عشاء کی نماز کے بعد طلوع فجر تک پڑھے جاسکتے ہیں، البتہ جسے تراویح وتہجد پڑھنی ہو تو وہ وتر کو اپنی نفل نماز کے آخر میں پڑھے، ابتدا یا درمیان میں نہ پڑھے۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1683]
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 303
نفل نماز کا بیان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی رات کی آخری نماز کو وتر بناؤ۔“ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 303»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنی رات کی آخری نماز کو وتر بناؤ۔“ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 303»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الوتر، باب ليجعل آخر صلاته وترًا، حديث:998، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:751.» تشریح:
1. اس حدیث میں رات کی آخری نماز کو وتر بنانے کا امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے‘ یعنی اگر کسی نے رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لیا ہے‘ پھر رات کے درمیان یا آخری حصے میں جاگ اٹھا تو دو دو رکعت کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ لے‘ وتر کو جوڑا بنا کر وتر کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
2. کوئی شخص وتر ادا کرنے کے بعد دو رکعت پڑھ لے تو کوئی مضائقہ نہیں‘ اس لیے کہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ حدیث:۷۳۸ (ب)۔
«أخرجه البخاري، الوتر، باب ليجعل آخر صلاته وترًا، حديث:998، ومسلم، صلاة المسافرين، باب صلاة الليل مثني مثني، حديث:751.»
1. اس حدیث میں رات کی آخری نماز کو وتر بنانے کا امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے‘ یعنی اگر کسی نے رات کے اول حصے میں وتر پڑھ لیا ہے‘ پھر رات کے درمیان یا آخری حصے میں جاگ اٹھا تو دو دو رکعت کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ لے‘ وتر کو جوڑا بنا کر وتر کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
2. کوئی شخص وتر ادا کرنے کے بعد دو رکعت پڑھ لے تو کوئی مضائقہ نہیں‘ اس لیے کہ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (صحیح مسلم‘ صلاۃ المسافرین‘ حدیث:۷۳۸ (ب)۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 303]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:998
998. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! رات کی آخری نماز، وتر کو بناؤ۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:998]
حدیث حاشیہ:
(1)
رات کی آخری نماز، وتر کو بنانے کے متعلق مذکورہ امر نبوی استحباب کے لیے ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر کے بعد دو رکعت پڑھنا بھی ثابت ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 471)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”صبح کے وقت نماز شب کے لیے بیدار ہونا بہت گراں اور مشقت کا باعث ہے، اس لیے وتر کے بعد دو رکعت پڑھ لی جائیں، اگر بیدار ہو جائے تو بہتر بصورت دیگر یہی اس کے لیے کافی ہے۔
“ (صحیح ابن خزیمة: 159/2)
اس حدیث پر محدث ابن خزیمہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
”وتر کے بعد جو نفل نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو نفل پڑھتے تھے وہ آپ کا خاصا نہیں بلکہ یہ عمل تمام امت کے لیے مشروع ہے۔
(صحیح ابن خزیمة: 159/2) (2)
اس حدیث سے بعض حضرات نے وتروں کے واجب ہونے کو ثابت کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ جب صلاۃ اللیل واجب نہیں تو اس کے آخر میں پڑھی جانے والی نماز کیونکر واجب ہو گی، نیز اصل تو کسی چیز کا غیر واجب ہونا ہے تا آنکہ اس کا واجب ہونا دلیل سے ثابت ہو جائے۔
(فتح الباري: 628/2)
(1)
رات کی آخری نماز، وتر کو بنانے کے متعلق مذکورہ امر نبوی استحباب کے لیے ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز وتر کے بعد دو رکعت پڑھنا بھی ثابت ہے، چنانچہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
(جامع الترمذي، الصلاة، حدیث: 471)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو وتر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
”صبح کے وقت نماز شب کے لیے بیدار ہونا بہت گراں اور مشقت کا باعث ہے، اس لیے وتر کے بعد دو رکعت پڑھ لی جائیں، اگر بیدار ہو جائے تو بہتر بصورت دیگر یہی اس کے لیے کافی ہے۔
“ (صحیح ابن خزیمة: 159/2)
اس حدیث پر محدث ابن خزیمہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:
”وتر کے بعد جو نفل نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد جو دو نفل پڑھتے تھے وہ آپ کا خاصا نہیں بلکہ یہ عمل تمام امت کے لیے مشروع ہے۔
(صحیح ابن خزیمة: 159/2) (2)
اس حدیث سے بعض حضرات نے وتروں کے واجب ہونے کو ثابت کیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں، کیونکہ جب صلاۃ اللیل واجب نہیں تو اس کے آخر میں پڑھی جانے والی نماز کیونکر واجب ہو گی، نیز اصل تو کسی چیز کا غیر واجب ہونا ہے تا آنکہ اس کا واجب ہونا دلیل سے ثابت ہو جائے۔
(فتح الباري: 628/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 998]
Sunan Abi Dawud Hadith 1438 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي