🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في نقض الوتر
باب: وتر دوبارہ نہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1439
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: زَارَنَا طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، ثُمَّ قَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ قَدَّمَ رَجُلًا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے روزہ افطار کیا، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1439]
قیس بن طلق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے ہاں آئے اور ہمارے ہی ہاں شام کی اور افطار کیا، اور پھر ہمیں اس رات نماز پڑھائی اور وتر بھی پڑھائے، پھر اپنی مسجد کی طرف چلے گئے اور وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، اور جب وتر باقی رہے تو ایک شخص کو آگے کر دیا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے: ایک رات میں دو وتر نہیں۔ (یعنی دو بار وتر نہیں۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 227 (الوتر13) (470)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1680)، (تحفة الأشراف:5024)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (470 وسنده صحيح) والنسائي (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1101 وسنده صحيح)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلق بن علي الحنفي، أبو عليصحابي
👤←👥قيس بن طلق الحنفي
Newقيس بن طلق الحنفي ← طلق بن علي الحنفي
مقبول
👤←👥عبد الله بن بدر السميعي
Newعبد الله بن بدر السميعي ← قيس بن طلق الحنفي
ثقة
👤←👥ملازم بن عمرو الحنفي، أبو عمرو
Newملازم بن عمرو الحنفي ← عبد الله بن بدر السميعي
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← ملازم بن عمرو الحنفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1680
لا وتران في ليلة
جامع الترمذي
470
لا وتران في ليلة
سنن أبي داود
1439
لا وتران في ليلة
بلوغ المرام
304
لا وتران في ليلة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1439 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1439
1439. اردو حاشیہ: کچھ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ اگر انسان نے عشاء کے وقت وتر پڑھ لیے ہوں۔ اور پھر وہ جب تہجد کے لئے اُٹھے۔ تو پہلے ایک رکعت پڑھے تاکہ پہلے کی پڑھی ہوئی نماز وتر جفت بن جائے۔ بعد ازاں اپنی نماز پڑھتا رہے۔ اور پھر آخر میں ایک رکعت پڑھ لے۔ تاکہ اس ارشاد پر عمل ہوجائے۔ جس میں ہے کہ اپنی رات کی نماز کا آخری حصہ وتر کو بناؤ۔ مگر راحج یہی ہے کہ وتر کو نہ توڑا جائے۔ کیونکہ اس کے بارے میں مروی روایت ضعیف ہے۔ گویا پڑھے ہوئے وتر کو توڑ کر جفت بنانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ اس لئے جو شخص تہجد کا عادی نہ ہو۔ اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ وتر عشاء کے ساتھ ہی پڑھ لے۔ پھر اگر اسے تہجد کے وقت اُٹھنے کا موقع مل جائے۔ تو وہ دو دورکعت کر کے نماز تہجد پڑھ لے۔ آخر میں اسے وتر پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1439]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1680
ایک رات میں دو (بار) وتر پڑھنے سے ممانعت کا بیان۔
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1680]
1680۔ اردو حاشیہ: جمہور اہل علم کے نزدیک یہی بات صحیح ہے کہ اگر شروع رات میں وتر پڑھ چکا ہو اور دوبارہ موقع مل جائے تو دو دو رکعت پڑھتا رہے، دوبارہ وتر پڑھنے کی ضرورت نہیں، البتہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حسن سند کے ساتھ منقول ہے کہ اس صورت میں تہجد شروع کرنے سے پہلے ایک رکعت پڑھ کر رات کی طاق نماز کو جفت کر لے، پھر آخر میں ایک رکعت پڑھ لے۔ اس طرح نماز مجموعی طور پر طاق بن جائے گی اور وتر بھی آخر میں ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا عمل اسی طرح تھا۔ دیکھیے: (مسند احمد: 2؍135) یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے اور ذاتی عمل ہے لیکن اس طرح باب کی حدیث میں ذکر کردہ طریقے سے وتر درمیان میں آجائے گا جبکہ آپ نے وتر رات کی نماز کے آخر میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ وتر آخر میں پڑھنا مستحب ہے، واجب نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے، نیز اول رات تو وتر آخر ہی میں پڑھا گیا تھا اگر صبح کے وقت پڑھا جاتا تو آخر ہی میں پڑھا جاتا۔ جمہور اہل علم کی بات زیادہ قوی ہے ورنہ وتر تین دفعہ پڑھا جائے گا اور آپ نے تو دو دفعہ وتر پڑھنے سے بھی روکا ہے، تین دفعہ کیسے جائز ہو گا؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی شرح سن النسائی: 18؍39۔ 42)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1680]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 304
نفل نماز کا بیان
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں۔ اسے احمد نے اور تینوں یعنی ترمذی، نسائی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 304»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب في نقض الوتر، حديث:1439، والترمذي، الوتر، حديث: 470، والنسائي، قيام الليل، حديث:1680، وأحمد:4 /23، وابن حبان (الإحسان): 4 /75، حديث:2440.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک رات میں دو بار وتر نہیں پڑھنے چاہییں۔
بعض حضرات کا یہ کہنا کہ اگر اول رات میں وتر پڑھے ہوں‘ پھر رات کے آخری حصے میں بیدار ہو تو پہلے ایک رکعت پڑھ کر جفت (جوڑا) بنا لے‘ پھر نفل پڑھ کر آخر میں وتر پڑھ لے‘ صحیح نہیں ہے۔
یہ عمل اس حدیث کے خلاف ہے۔
مزید تفصیل کے لیے امام مروزی رحمہ اللہ کی قیام اللیل ملاحظہ ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 304]

Sunan Abi Dawud Hadith 1439 in Urdu