🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب المسح على الخفين
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ:" عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، وَوَجَدْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ: قَدْ أَصَبْتُمْ، أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے، میں آپ کے ساتھ تھا، میں بھی مڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن (لوٹے) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر سوار ہو گئے، پھر ہم چل پڑے، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (امامت کے لیے) آگے بڑھا رکھا تھا، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نماز شروع کر دی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا: تم لوگوں نے ٹھیک کیا، یا فرمایا: تم لوگوں نے اچھا کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 149]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نماز فجر سے پہلے ایک مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے ایک جانب کو ہو گئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مڑ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کے لیے چلے گئے۔ واپس آئے تو میں نے لوٹے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ اور پھر چہرہ دھویا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو جبے کی آستینوں سے نکالنا چاہا مگر وہ تنگ تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ واپس آستین میں ڈال لیے اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں کہنیوں تک دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے اور چل دیے حتیٰ کہ ہم نے لوگوں کو نماز میں پایا اور وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو (بطور امام) آگے کر چکے تھے۔ انہوں نے نماز پڑھائی جب کہ نماز کا وقت ہو گیا تھا، ہم نے پایا کہ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ انہیں نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی۔ سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے (نماز مکمل ہونے پر) سلام پھیرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ (یہ دیکھ کر) مسلمان گھبرا گئے اور بہت زیادہ تسبیح کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت کی تھی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: تم لوگوں نے درست کیا۔ یا کہا بہت اچھا کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 35(182)، 48 (203)، 49 (206)، المغازي 81 (4421)، اللباس 11 (5799)، صحیح مسلم/الطھارة 23 (274)، سنن النسائی/الطھارة 63 (79)، 66 (82)، 96 (124)، 97 (125)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 84 (545)، (تحفة الأشراف: 11514)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة 8 (41)، مسند احمد (4/ 249، 251، 254، 255)، سنن الدارمی/الطھارة 41 (740) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (274 بعد ح 421)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبِهِ وَمَعِي إِدَاوَةٌ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَضَاقَتْ فَادَّرَعَهُمَا ادِّرَاعًا، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنْزَعَهُمَا، فَقَالَ لِي: دَعِ الْخُفَّيْنِ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُ الْقَدَمَيْنِ الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا"، قَالَ أَبِي: قَالَ الشَّعْبِيُّ: شَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ، وَشَهِدَ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل (چھوٹا برتن) تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے آپ (کے ہاتھ) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے، جس کی آستین تنگ و چست تھی، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: موزوں کو رہنے دو، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔ شعبی کہتے ہیں: یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 151]
جناب عروہ اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب تھے، میرے پاس پانی کا برتن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی غرض سے نکلے، پھر ہماری جانب واپس آئے، تو میں پانی لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر منہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بازو آستینوں سے نکالنا چاہے جبکہ آپ نے جبہ پہنا ہوا تھا، وہ رومی جبہ تھا اور اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نہ نکل سکے، تو آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے بازو نکالے۔ پھر میں جھکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتاروں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑو میں نے اپنے پاؤں ان میں ڈالے تو یہ دونوں طاہر تھے۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔ (عیسیٰ بن یونس نے) کہا کہ میرے والد (یونس بن ابی اسحاق) نے کہا کہ شعبی نے کہا: مجھے عروہ نے اپنے باپ (مغیرہ) کے متعلق گواہی دی اور اس کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی۔ (اس توضیح سے مراد حدیث کی توثیق مزید ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث رقم: 149، (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (206) صحيح مسلم (274)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَسْأَلُ بِلَالًا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَانَ يَخْرُجُ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَوَضَّأُ، وَيَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمُوقَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ.
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے، بلال نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے تشریف لے جاتے، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنے عمامہ (پگڑی) اور دونوں موق (جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پر مسح کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 153]
جناب ابوعبدالرحمٰن سلمی روایت کرتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے اور وہ بلال رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی لے آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے اور اپنی پگڑی اور موزوں پر مسح کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعبدالرحمٰن سے روایت کرنے والا ابوعبداللہ، بنی تیم بن مرہ کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 2049)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطھارة 23 (275)، سنن الترمذی/الطھارة 75 (100)، سنن النسائی/الطھارة 86 (105)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 89 (561)، مسند احمد (6/12، 13، 14، 15) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه الحاكم (1/ 170، وسنده حسن) ووافقه الذهبي، وللحديث شواھد كثيرة جداً

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں