🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب في الاستغفار
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ".
اغر مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آ جاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1515]
سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، مسدد کی روایت میں ہے کہ ان کو شرفِ صحبت حاصل تھا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر بھی پردہ سا آ جاتا ہے اور میں اللہ سے ایک ایک دن میں سو سو بار استغفار کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 12 (2702)، سنن النسائی/ فی الیوم واللیلة (442)، (تحفة الأشراف:2162)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/211، 260، 5/411) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2702)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1516]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بلاشبہ ہم شمار کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو بار یہ کلمہ دہراتے تھے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ» اے میرے رب! مجھے بخش دے اور (رحمت کے ساتھ) میری طرف رجوع فرما۔ بلاشبہ تو بہت زیادہ رجوع فرمانے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 39 (3434)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (458)، سنن ابن ماجہ/الأدب 57 (3814)، (تحفة الأشراف:8422) وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2352)
أخرجه ابن ماجه (3814 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں