Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب من يعطى من الصدقة وحد الغنى
باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1631
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:12355)، وقد أخرجہ: خ /الزکاة 53 (1476)، وتفسیر البقرة 48 (4539)، صحیح مسلم/الزکاة 34 (1039)، سنن النسائی/الزکاة 76 (2572)، موطا امام مالک/ صفة النبی 5 (7)، مسند احمد (2/260، 316، 393، 445، 457)، سنن الدارمی/الزکاة 2 (1656) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شاھد عند البخاري (1476) ومسلم (1039)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَهُ، قَالَ:" وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ"، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ:" لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَصَحُّ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 76 (2574)، (تحفة الأشراف:15277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/260) (صحیح) دون قوله: ’’فذاك المحروم‘‘ فإنه مقطوع من كلام الزهري» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فذاك المرحوم فإنه مقطوع من كلام الزهري ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2574)
الزھري مدلس وعنعن
وحديث البخاري (1476) ومسلم (1039) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66
ُ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں