سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب في الانتضاح
باب: وضو کے بعد شرمگاہ (ستر) پر پانی چھڑکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ".
ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 167]
مجاہد رحمہ اللہ..... بنو ثقیف کے ایک شخص سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا اور پھر اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3420) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
فيه رجل مجهول، وانظر الحديث السابق
فيه رجل مجهول، وانظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنْتَضِحُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَ سُفْيَانَ جَمَاعَةٌ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْحَكَمُ، أَوْ ابْنُ الْحَكَمِ.
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور (وضو کے بعد) شرمگاہ پر (تھوڑا) پانی چھڑک لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 166]
سیدنا سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے اور وضو کرتے تو ”(اس کے بعد شرمگاہ والی جگہ پر) چھینٹے مار لیتے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”محدثین کی جماعت نے اس سند میں راوی کا نام ”سفیان بن حکم“ کو راجح قرار دیا ہے جبکہ بعض نے حکم یا ابن حکم ذکر کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 102 (134)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 58 (461)، (تحفة الأشراف: 3420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/179) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (361)
سفيان الثوري عنعن بل تابعه شعبه في السنن النسائي (134) وجرير في المسند الامام احمد (24/ 104 ح 15384) وغيره / [معاذ]، وقال ابي الشيخ زبير عليزئي: ’’شيخ مجاهد اختلف في صبحته فحديثه لاينزل عن درجة الحسن، وانظر التلخيص الحبير (1/ 74)‘‘
مشكوة المصابيح (361)
سفيان الثوري عنعن بل تابعه شعبه في السنن النسائي (134) وجرير في المسند الامام احمد (24/ 104 ح 15384) وغيره / [معاذ]، وقال ابي الشيخ زبير عليزئي: ’’شيخ مجاهد اختلف في صبحته فحديثه لاينزل عن درجة الحسن، وانظر التلخيص الحبير (1/ 74)‘‘
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَوِ ابْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ".
حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 168]
مجاہد، حکم یا ابنِ حکم سے، وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3420) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وضو کے بعد تھوڑا سا پانی پاجامہ کی میانی پر چھڑک لے، تاکہ وہاں پیشاب کا قطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی عمدہ تدبیر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھلائی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابقين
انظر الحديث السابقين