سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب التعريف باللقطة
باب: لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ، قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:"تُعَرِّفُهَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (لقطے کے متعلق) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا: لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کو دے دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1707]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا اور ربیعہ کی حدیث کے مانند ذکر کیا (سابقہ حدیث: 1704)، کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پس اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کے سپرد کر دو، نہیں تو اس کا بندھن اور برتن خوب یاد کر لو اور اسے اپنے مال میں شامل کر لو، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اس کو دے دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1704)، (تحفة الأشراف:3763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1704) ورواه إبراهيم بن طھمان في المشيخة (4 وسنده حسن/ معاذ)
انظر الحديث السابق (1704) ورواه إبراهيم بن طھمان في المشيخة (4 وسنده حسن/ معاذ)
حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا، فَقَالَا لِيَ: اطْرَحْهُ، فَقُلْتُ: لَا، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَحَجَجْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالَ: وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا حَوْلًا"، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَقَالَ:" احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا"، وَقَالَ: وَلَا أَدْرِي أَثَلَاثًا قَالَ عَرِّفْهَا أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً.
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا، ان دونوں نے کہا: اسے پھینک دو، میں نے کہا: نہیں، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا، پھر میں نے حج کیا، میرا گزر مدینے سے ہوا، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی، اس میں سو (۱۰۰) دینار تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ“، چنانچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال اور پہچان کراؤ“، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال پھر پہچان کراؤ“، چنانچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی، اگر اس کا مالک آ جائے (تو بہتر) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا“۔ شعبہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے «عرفها» تین بار کہا تھا یا ایک بار۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1701]
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں سیدنا زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، مجھے ایک چابک ملا (جو میں نے اٹھا لیا) تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ ”اسے پھینک دے۔“ میں نے کہا: ”نہیں۔ اگر اس کا مالک مجھے مل گیا تو (اسے دے دوں گا) ورنہ اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔“ پھر میں حج کے لیے گیا اور مدینے بھی آیا تو میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، انہوں نے کہا: ”مجھے ایک تھیلی ملی تھی جس میں سو دینار تھے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔“ چنانچہ میں ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال (اور) اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال اور اس کا اعلان کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال (اور) اعلان کرو۔“ میں نے ایک سال مزید اس کا اعلان کیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے کوئی ایسا آدمی نہیں پایا جو اسے جانتا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی گنتی کو یاد رکھو، اس کی تھیلی اور سربند بھی۔ اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر، ورنہ ان سے فائدہ اٹھاؤ۔“”(سلمہ بن کبیل رحمہ اللہ نے) کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ ”اعلان کرنے کا حکم“ تین بار دیا یا ایک بار۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللقطة 1 (2426)، 10 (2437)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1723)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1374)، سنن النسائی/الکبری/ اللقطة (5820، 5821)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2506)، (تحفة الأشراف:28)، وقدأخرجہ: مسند احمد (5/126، 127) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2426) صحيح مسلم (1723)
حدیث نمبر: 1704
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، قَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، وَقَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ (پڑی ہوئی چیز) کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو، پھر اسے خرچ کر ڈالو، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پکڑ لو، اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے“، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اس کا جوتا ۱؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1704]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی چیز کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اس کا سربند (بندھن) اور تھیلی (یا برتن جس میں وہ ہو) خوب یاد کر لو اور اسے اپنے استعمال میں لے آؤ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو۔“ پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمشدہ بکری (کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو، یہ تمہارے لیے ہے یا تمہارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے لیے۔“ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اور گمشدہ اونٹ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، حتیٰ کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا کہا کہ چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا غرض؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا (پاؤں) ہے اور مشکیزہ ہے (اس کے پیٹ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور صلاحیت ہے)، یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 28 (91)، المساقاة 12 (2372)، اللقطة 2 (2427)، 3 (2428)، 4 (2429)، 9 (2436)، 11 (2438)، الطلاق 22 (5292مرسلاً)، الأدب 75 (6112)، صحیح مسلم/اللقطة 31 (1722)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1372)، سنن النسائی/ الکبری /اللقطة (5814، 5815، 5816)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2504)، (تحفة الأشراف: 3763)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 38 (46، 47)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے، اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور بار بار پانی پینے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیے وغیرہ کا بھی خوف نہیں کہ وہ خود اپنا دفاع کر لیتا ہے، اس لئے اسے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2436) صحيح مسلم (1722)
حدیث نمبر: 1706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ،عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آ جائے تو اسے (اس کی قیمت) ادا کر دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1706]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گری پڑی اشیاء کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ اگر اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اس کو دے دو، ورنہ اس کی تھیلی (یا برتن) اور اس کا سربند یاد رکھو، پھر اسے کھا لو (اپنے استعمال میں لے آؤ) اس کے بعد اگر اس کا متلاشی آ جائے تو اس کے حوالے کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللقطة 1(1722)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1373)، سنن النسائی/الکبری (5811)، سنن ابن ماجہ/ اللقطة 1 (507)، (تحفة الأشراف:3748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/116، 5/193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م وفي إسناده زيادة عن أبي النضر عن بسر وهو الصواب
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1722)
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ:" فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ"،وقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَ رَبِيعَةَ:" إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ" لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْضًا، قَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً"، وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَرِّفْهَا سَنَةً".
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: ”اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو“۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث (یعنی حدیث نمبر: ۱۷۰۲ -۱۷۰۳) میں کی ہے: «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی: ”اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو“، اس میں: «فعرف عفاصها ووكاءها» ”تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے“ کا جملہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» (ایک سال تک اس کی تشہیر کرو) موجود ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1708]
یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی کے ہم معنی مروی ہے، اس میں اضافہ ہے: ”اگر اس کا متلاشی آ جائے اور اس کی تھیلی (یا برتن) اور اس کی گنتی (وغیرہ علامات) بتا دے تو وہ چیز اس کے سپرد کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1708]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1704)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (1713)، (تحفة الأشراف:28، 3763، 8755، 8784) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی روایت میں تین سال پہچان (شناخت) کراتے رہنے کا تذکرہ ہے، اور کسی میں ایک سال، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب و ورع، ان دونوں روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ قرار دیا جائے اور دوسرے کو منسوخ (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح والزيادة عند خ أبي
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1722)
انظر الحديث السابق (1704)
انظر الحديث السابق (1704)
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1709]
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی گری پڑی چیز ملے تو اسے چاہیے کہ ایک یا دو عادل گواہ بنا لے اور اسے چھپائے نہیں اور نہ غائب کرے، پھر اگر اس کے مالک کو پائے تو اسے لوٹا دے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الکبری (5808، 5809)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2505)، (تحفة الأشراف:11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہو جائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مر جائے اوراس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3039)
أخرجه ابن ماجه (2505 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (3039)
أخرجه ابن ماجه (2505 وسنده صحيح)