🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في رفع اليدين إذا رأى البيت
باب: خانہ کعبہ (بیت اللہ) کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1872
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، وَهَاشِمٌ يَعْنِيَ ابْنَ الْقَاسِمِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ"، قَالَ: وَ الْأَنْصَارُ تَحْتَهُ، قَالَ هَاشِمٌ: فَدَعَا وَحَمِدَ اللَّهَ وَدَعَا بِمَا شَاءَ أَنْ يَدْعُوَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1872]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، پس مکہ میں داخل ہوئے، پھر حجرِ اسود کی طرف تشریف لائے، اسے بوسہ دیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی جانب آئے اور اس کے اوپر چڑھ گئے جہاں سے بیت اللہ آپ کو نظر آ رہا تھا، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور اللہ کا ذکر کرتے رہے جس قدر کہ اللہ نے چاہا اور دعا کرتے رہے۔ اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ راویِ حدیث ہاشم نے کہا: دعا فرمائی، اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1872]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (1871)، (تحفة الأشراف: 13562) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حدیث میں واقع جملہ «والأنصار تحته» پر کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله والأنصار تحته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (1780)
مشكوة المصابيح (2575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ"، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: لَا.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1902]
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام (ابراہیم) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ لوگ تھے جنہوں نے آپ کو لوگوں سے بچایا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحج 53 (1600)، سنن ابن ماجہ/المناسک 44 (2990)، (تحفة الأشراف: 5155، 5156)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1332)، مسند احمد (4/353، 355، 381)، سنن الدارمی/المناسک 77 (1963) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح خ ولـ م جملة الدخول فقط
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1600) صحيح مسلم (1332)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2005
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنْ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ، قَالَتْ: وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں (مکہ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر (آپ کے پاس واپس آ گئی) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2005]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا، پھر حرم میں داخل ہوئی اور اپنا عمرہ پورا کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی ابطح میں میرا انتظار کیا حتیٰ کہ میں فارغ ہو گئی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں تشریف لائے، اس کا طواف کیا پھر روانہ ہو گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف:17443،17440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
مشكوة المصابيح (2667)
انظر الحديث الآتي (2006)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں