سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب الصلاة بجمع
باب: مزدلفہ میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1926]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں اکٹھی کر کے پڑھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 47 (703)، سنن النسائی/ الصلاة 18 (482)، 20 (484، 485)، سنن النسائی/ الصلاة 18 (482)، 20 (484، 485)، المواقیت 49 (607)، والأذان 19 (658)، والحج 207 (3033)، (تحفة الأشراف: 6914)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 96 (1674)، سنن الترمذی/الحج 56 (888)، سنن ابن ماجہ/المناسک 60 (3020)، موطا امام مالک/الحج 65 (196)، مسند احمد (2/ 3، 62، 79، 81) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (703 بعد ح 1287)
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ الْحَارِثِ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1929]
عبداللہ بن مالک (بن حارث) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں۔ مالک بن حارث نے ان سے کہا: ”یہ کس طرح کی نماز ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایک ہی تکبیر کے ساتھ پڑھا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الحج 56 (887)، (تحفة الأشراف: 7285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18، 33، 78، 152) (صحیح)» (ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح بزيادة لكل صلاة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (887)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل: 1927) يغني عنه
وانظر الحديث الآتي (الأصل : 1930)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
إسناده ضعيف
ترمذي (887)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل: 1927) يغني عنه
وانظر الحديث الآتي (الأصل : 1930)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَلَمَّا بَلَغْنَا جَمْعًا صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا ابْنُ عُمَرَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم (عرفات سے) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑھائی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1931]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی معیت میں (عرفات سے) لوٹے۔ جب مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نمازیں تین رکعتیں اور دو رکعتیں ایک تکبیر کے ساتھ پڑھائیں۔ جب فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ ہمیں اسی طرح نماز پڑھائی تھی۔“” [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (1930)، (تحفة الأشراف: 7052) (صحیح)» (’’ایک اقامت‘‘ والی روایت شاذ ہے، ہر صلاة کے لئے الگ الگ اقامت ثابت ہے)
وضاحت: ۱؎: اس کے برخلاف جابر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو تکبیر سے دونوں نمازیں ادا کیں اور یہی راجح ہے، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م لكن قوله بإقامة واحدة شاذ إلا أن يزاد لكل صلاة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1288)
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ صَنَعَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا، وَقَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ".
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1932]
سلمہ بن کہیل نے کہا کہ میں نے جناب سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مزدلفہ میں دیکھا کہ انہوں نے اقامت کہی اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں، پھر عشاء کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر انہوں نے کہا: ”میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حاضر تھا، انہوں نے اس جگہ اسی طرح کیا تھا اور انہوں نے بیان کیا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (1930)، (تحفة الأشراف: 7052) (صحیح)» (اس میں بھی ایک اقامت شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م وفيه الشذوذ المذكور في الذي قبله
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1288)
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَقْبَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ يَكُنْ يَفْتُرُ مِنَ التَّكْبِيرِ وَالتَّهْلِيلِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، أَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عِلَاجُ بْنُ عَمْرٍو بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ: فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا".
سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آ گئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اشعث کہتے ہیں: اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1933]
اشعث بن سلیم اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ”میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا۔ انہوں نے اس دوران میں تکبیر اور تہلیل کو نہیں چھوڑا حتیٰ کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ پھر اذان اور اقامت کہی یا کسی کو حکم دیا کہ اذان اور اقامت کہے۔ پھر ہمیں مغرب کی تین رکعتیں پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”نماز (عشاء کی بھی)“ پس ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، دو رکعتیں۔ پھر اپنا رات کا کھانا طلب کیا۔“ (اشعث بن سلیم نے) کہا: ”مجھے علاج بن عمرو نے اسی طرح بیان کیا جیسے کہ میرے والد (سلیم بن اسود) نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے ہی پڑھی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7091) (صحیح)» (اس میں دونوں نمازیں کے لئے اذان ثابت و محفوظ ہے، (1928) کی حدیث میں اذان کا انکار ہے، جو شاذ و ضعیف ہے جیسا کہ گزرا، نیز اس روایت میں دوسری اقامت کی جگہ «الصلاة» کا لفظ ہے جو شاذ ہے، محفوظ دوسری مرتبہ اقامت کا لفظ ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله ف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1934
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زَيَادٍ، وَأَبَا عَوَانَةَ، وَأَبَا مُعَاوِيَةَ حَدَّثُوهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِوَقْتِهَا، إِلَّا بِجَمْعٍ فَإِنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ مِنَ الْغَدِ قَبْلَ وَقْتِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1934]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بے وقت پڑھی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ وقت پر نماز پڑھتے تھے، مگر مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھا (تاخیر سے) اور اگلے دن کی فجر کی نماز اپنے وقت سے پہلے پڑھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 99 (1682)، صحیح مسلم/الحج 48 (1289)، سنن النسائی/المواقیت 49 (606)، والحج 207 (3030)، 210 (3041)، (تحفة الأشراف: 9384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 426، 434) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ترجمہ سے اس حدیث کا صحیح معنی واضح ہو گیا، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ” اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ غلس کے بعد اسفار میں نماز پڑھتے تھے صرف اس دن غلس میں پڑھی“، لیکن دیگر صحیح روایات کی روشنی میں اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ: غلس ہی میں فوراً پڑھ لی، عام حالات کی طرح تھوڑا انتظار نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1682) صحيح مسلم (1289)