سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في اللعان
باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2255
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشُّعَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، يَقُولُ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ (عذاب کو) واجب کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2255]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لعان کرنے والوں سے قسمیں کھانے کو کہا تو پانچویں قسم کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”اس مرد کے منہ پر ہاتھ رکھو، اسے کہو یہ واجب کرنے والی ہے (اللہ کے غضب، لعنت اور عذاب کو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطلاق 40 (3503) (تحفة الأشراف: 6372) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صرح سفيان بالسماع عند الحميدي (519 وسنده صحيح)
صرح سفيان بالسماع عند الحميدي (519 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَسْطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا"، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ“، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ۱؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2245]
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”اے عاصم! بتلاؤ! اگر کوئی شخص کسی اجنبی کو اپنی بیوی کے ساتھ پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ پھر تو تم اسے بھی قتل کر دو گے یا کیا کرے؟ عاصم! میرے متعلق اس مسئلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کرو۔“ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا، حتیٰ کہ عاصم کو، جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا بہت ہی گراں گزرا۔ عاصم جب گھر لوٹا تو عویمر اس کے پاس آیا اور پوچھا: ”اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا کہا ہے؟“ عاصم نے کہا: ”تم میرے لیے کوئی خیر کا باعث نہیں بنے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہت ناپسند کیا ہے۔“ عویمر نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں اس سے خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں گا۔“ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے، تب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھی قتل کر ڈالیں گے یا کیسے کرے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے معاملے میں قرآن نازل فرما دیا ہے۔ پس جا اور اسے لے آ۔“ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: چنانچہ ان دونوں نے لعان کیا تو میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو (اس کا مطلب ہو گا کہ میں نے) اس کی بابت جھوٹ بولا ہے (میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا ہے)۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: چنانچہ لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ہو گیا (کہ لعان کے ساتھ ہی جدائی ہو جائے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 44 (423)، تفسیر سورة النور 1 (4745)، 2 (4746)، الطلاق 4 (5259)، 29 (5308)، 30 (5309)، الحدود 43 (6854)، الأحکام 18 (7166)، الاعتصام 5 (7304)، صحیح مسلم/اللعان 1(1492)، سنن النسائی/الطلاق 35 (3496)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2066)، (تحفة الأشراف: 4805)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13(34)، مسند احمد (5/330، 334، 336، 337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لعان کا مطلب کسی عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہنا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے میں سچا ہے یا یہ بچہ یا حمل اس کا نہیں ہے اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اللہ کی اس پر لعنت ہو، اب خاوند کے جواب میں بیوی بھی چار مرتبہ قسم کھا کر یہ کہے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اگر اس کا خاوند سچا ہے اور میں جھوٹی ہوں تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے خاوند حد قذف سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لئے جدائی ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5259) صحيح مسلم (1492)
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي خَبَرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس (شوہر) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے“، چنانچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2248]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ لعان کرنے والوں کے اس واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کا خیال رکھو، اگر اس نے ایسا بچہ جنا کہ آنکھیں اس کی سیاہ ہوئیں، سرین بھاری ہوئے تو میرا خیال ہے کہ اس (عویمر) نے سچ ہی کہا ہے۔ اور اگر اس نے ایسا بچہ جنا جو گورا ہوا جیسے کہ «الْوَحَرَةُ» ”وحرہ“ ہو (چھپکلی کی طرح کا ایک زہریلا کیڑا، جس کے دائیں بائیں پہلو سرخ دھاریاں ہوتی ہیں، یعنی بامنی) تو میرا خیال ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔“ چنانچہ بچہ پیدا ہوا تو اسی ناپسندیدہ کیفیت والا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (2247)
انظر الحديث السابق (2247)
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ:" شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَلَاعَنَا"، وَتَمَّ حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، وَقَالَ الْآخَرُونَ: إِنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ: عَلَيْهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يُتَابِعْ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، اور میں پندرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی، یہاں مسدد کی روایت پوری ہو گئی، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ: ”وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2251]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس وقت حاضر تھا جب دونوں میاں بیوی نے لعان کیا تھا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی۔“ جب انہوں نے لعان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں تفریق کرا دی۔ یہاں تک مسدد کی روایت مکمل ہو گئی۔ مگر دوسروں (وہب بن بیان، احمد بن عمرو بن سرح اور عمرو بن عثمان) نے کہا کہ ”وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان تفریق کرا دی تو شوہر نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”کچھ راویوں نے «عَلَيْهَا» ”اس پر“ کا لفظ ذکر نہیں کیا (صرف «كَذَبْتُ» ”میں نے جھوٹ بولا“ کہا)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ””لعان کرنے والوں میں تفریق“ کے بیان میں سفیان بن عیینہ کا کوئی متابع (مؤید) نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2245)، (تحفة الأشراف: 4805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح خ بلفظ الآخرين
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6854)
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّا لَلَيْلَةُ جُمْعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ؟ فَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ بِهِ، جَلَدْتُمُوهُ؟ أَوْ قَتَلَ، قَتَلْتُمُوهُ؟ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ؟ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ افْتَحْ"، وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 هَذِهِ الْآيَةَ، فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ، فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، قَالَ: فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ"، فَأَبَتْ، فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَا، قَالَ:" لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا"، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا، اور کہنے لگا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پا لے اور (حقیقت حال) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے، اللہ کی قسم، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (اجنبی) آدمی کو پا لے اور حقیقت حال بیان کرے تو (تہمت کی حد کے طور پر) آپ اسے کوڑے لگائیں گے، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کر دیں گے، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے: ”اے اللہ! معاملے کی وضاحت فرما دے“، چنانچہ لعان کی آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں“ (سورۃ النور: ۶) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چنانچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو“، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا، تو جب وہ دونوں جانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے“ چنانچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2253]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک جمعے کی رات ہم مسجد میں تھے کہ ایک انصاری شخص مسجد میں داخل ہوا اور کہنے لگا: ”اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے اور اس کا اظہار کرے اور بولے تو تم لوگ (تہمت کی وجہ سے) اس کو کوڑے مارو گے یا اگر قتل کر دے تو تم اس کو بھی قتل کر ڈالو گے، (قصاص میں) اور اگر وہ خاموش رہے تو انتہائی غیظ و غضب کی بات پر خاموش رہتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا۔“ چنانچہ اگلا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور کہنے لگا: ”اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے اور پھر بولے تو آپ اسے کوڑے ماریں گے (تہمت کی وجہ سے) یا اگر قتل کر دے تو آپ اسے قتل کر دیں گے (قصاص میں) اور اگر خاموش رہے تو انتہائی غیظ و غضب کی بات پر خاموش رہتا ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللّٰهُمَّ بَيِّنْ» ”اے اللہ! معاملہ واضح فرما دے۔“ فرمایا اور دعا کرنے لگے حتیٰ کہ لعان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ﴾ [سورة النور: 6] ”اور جو لوگ اپنی بیویوں کو الزام لگائیں اور ان کے پاس اپنے سوا اور کوئی گواہ نہ ہوں۔“ نازل ہوئی، چنانچہ یہی آدمی اس آفت میں مبتلا کر دیا گیا، پھر وہ اور اس کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں نے لعان کیا۔ مرد نے چار شہادتیں دیں کہ ”اللہ کی قسم! میں سچا ہوں۔“ اور پانچویں بار کہا: ”اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔“ پھر جب وہ عورت بھی اسی طرح لعنت کے لیے تیار ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”رک جاؤ (خیال کرو)۔“ مگر اس نے انکار کر دیا اور لعنت کی بد دعا کر دی۔ جب وہ دونوں چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید یہ بچہ جنے گی جو کالے رنگ اور گھنگریالے بالوں والا ہو گا۔“ چنانچہ وہ پیدا ہوا تو کالے رنگ اور گھنگریالے بالوں والا ہی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 10 (1495)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2068)، (تحفة الأشراف: 9425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/421، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1495)
حدیث نمبر: 2257
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ:" حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ:" لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی (مرد سے فرمایا) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں“، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کر چکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2257]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں کو کہا: ”تمہارا حساب اللہ کے پاس ہے۔ تم دونوں میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ اور (شوہر سے کہا کہ) تجھے اس پر کوئی حق حاصل نہیں رہا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا مال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے کوئی مال نہیں۔ اگر تو سچا ہے تو وہ اس کا بدل ہے جو تو نے اس کی عصمت کو حلال کیا۔ اور اگر اس پر جھوٹ بولا ہے تو وہ تیرے لیے اور بھی بعید تر ہے۔“ (ایک طرف تہمت لگائے اور اس پر مزید یہ کہ مال بھی مانگے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 32 (5312)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1493)، سنن النسائی/الطلاق 44 (3506)، (تحفة الأشراف: 7051)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق 22 (1202)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 27 (2066)، مسند احمد (2/12)، (4587)، سنن الدارمی/النکاح 39 (2277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5312) صحيح مسلم (1493)
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ:" اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟" يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کہا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ۱؎ کو (اس صورت میں) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2258]
جناب سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو؟“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے ایک جوڑے میں تفریق کرا دی تھی (عویمر اور اس کی بیوی میں) اور فرمایا تھا: ”اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی توبہ کر رہا ہے؟“ آپ نے اپنی یہ بات تین بار دہرائی مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ آپ نے ان میں تفریق کرا دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 32 (5321)، 52 (5349)، صحیح مسلم/اللعان 1(1493)، سنن النسائی/الطلاق 43 (3505)، (تحفة الأشراف: 7050)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/57، 2/4، 37) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد عویمر اور ان کی بیوی ہیں، اور دونوں کو «تغلیبا اخوین» کہا گیا ہے، اور ان دونوں پر «اخوة» کا اطلاق «إنما المؤمنون اخوة» کے اعتبار سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5311) صحيح مسلم (1493)
حدیث نمبر: 2259
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مَالِكٌ، قَوْلُهُ:" وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ". وقَالَ يُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي حَدِيثِ اللِّعَانِ،" وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور بچے کو عورت سے ملا دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ «وألحق الولد بالمرأة» کا جملہ ہے، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس (عورت) کا بیٹا اسی (عورت) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2259]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور بچے کا انکار کیا تو آپ نے ان کے مابین علیحدگی کرا دی اور بچے کو عورت کی طرف منسوب کر دیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”امام مالک رحمہ اللہ یہ جملہ روایت کرنے میں متفرد ہیں یعنی «وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ» ”اور بچے کو عورت کے ساتھ ملحق کر دیا“ اور یونس بواسطہ زہری، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ شوہر نے اس کے حمل کا انکار کر دیا تو بچے کو عورت کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 35 (5351)، الفرائض 17 (6748)، صحیح مسلم/اللعان 1(1494)، سنن الترمذی/الطلاق 22 (1203)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 22 2069)، (تحفة الأشراف: 7050)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13 (35)، مسند احمد (2/7، 38، 64، 71)، دی/ النکاح 39 (2278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے نسب اور وراثت میں ماں سے ملا دیا لہٰذا وہ ماں ہی کی طرف منسوب کیا جائے گا اور ماں اور بیٹا دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے برخلاف باپ کے نہ تو اس کی طرف وہ منسوب ہو گا اور نہ وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5315) صحيح مسلم (1494)
حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ"، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ سعد نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی (میں تو اسے قتل کر دوں گا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں“ (عبدالوہاب کے الفاظ ہیں، (سنو) جو سعد کہہ رہے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 4532]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر ڈالے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: ”کیوں نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کی بات سنو، کیا کہہ رہا ہے۔“ عبدالوہاب کی روایت میں ہے: ”سنو سعد کیا کہہ رہا ہے۔“ (یعنی بہت ہی غیرت مند ہیں۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 4532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1498)، سنن ابن ماجہ/الحدود 34 (2605)، (تحفة الأشراف: 12699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 19 (17)، الحدود 1(7)، مسند احمد (2/465) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1498)