سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب الصائم يصب عليه الماء من العطش ويبالغ في الاستنشاق
باب: روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2365
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ، وَقَالَ:" تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ"، وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے فتح مکہ کے سال اپنے سفر میں لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا حکم دیا، اور فرمایا: ”اپنے دشمن (سے لڑنے) کے لیے طاقت حاصل کرو“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔ ابوبکر کہتے ہیں: مجھ سے بیان کرنے والے نے کہا کہ میں نے مقام عرج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر پر پیاس سے یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2365]
جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”میں نے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے سال اپنے سفر میں صحابہ کو روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”دشمن کے مقابلے کے لیے قوت حاصل کرو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا۔“ ابوبکر رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے حدیث بیان کرنے والے نے بتایا: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ عرج میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے اور پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈال رہے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15688)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 7 (2)، مسند احمد (3/475، 4/63، 5/376، 380، 408، 430) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2011)
ولبعض الحديث شاھد عند مسلم (1114)
مشكوة المصابيح (2011)
ولبعض الحديث شاھد عند مسلم (1114)
حدیث نمبر: 2406
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ وَهُمْ مُكِبُّونَ عَلَيْهِ، فَانْتَظَرْتُ خَلْوَتَهُ. فَلَمَّا خَلَا سَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ. فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّى بَلَغَ مَنْزِلًا مِنَ الْمَنَازِلِ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ". فَأَصْبَحْنَا مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ. قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُصَبِّحُونَ عَدُوَّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا". فَكَانَتْ عَزِيمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَصُومُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَ ذَلِكَ.
قزعہ کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا، انہوں نے کہا: ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا“، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے، لہٰذا روزہ چھوڑ دو“، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی۔ ابوسعید کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2406]
قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے اور لوگ ان پر جھکے ہوئے تھے۔ میں نے بھیڑ کے چھٹ جانے کا انتظار کیا۔ جب وہ اکیلے ہو گئے تو میں نے ان سے سفر میں رمضان کے روزوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”فتح مکہ کے سال ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھے، تو ہم بھی رکھتے رہے حتیٰ کہ ایک منزل پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اب اپنے دشمن کے قریب آ گئے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے۔“ تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کر لیا۔ پھر ہم چلے اور ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ صبح کو اپنے دشمن کے مقابل آنے والے ہو اور افطار کرنا تمہارے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے، سو افطار کر لو۔“ چنانچہ یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکیدی تھا۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے یاد ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے روزے رکھے ہیں اور بعد میں بھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 16 (1120)، (تحفة الأشراف: 4283)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام 31 (2311)، مسند احمد (3/35) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1120)