سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب الصائم يبلع الريق
باب: روزہ دار کے تھوک نگلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2386
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْعَبْدِيُّ، عَنْ مِصْدَعٍ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ وَيَمُصُّ لِسَانَهَا"، قَالَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ: هَذَا الإسْنَادُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لیتے اور ان کی زبان چوستے تھے۔ ابن اعرابی کہتے ہیں: یہ سند صحیح نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2386]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بوسہ لے لیتے جبکہ وہ روزے سے ہوتے اور ان کی زبان چوستے۔“ ابن الاعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ ”یہ سند صحیح نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/123، 234) (ضعیف)» (اس کے راوی مصدع لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن دينار اختلط في آخر عمره،انظر التقريب (5870)،وفي التحرير : ’’ ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواھد ‘‘ …… إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
إسناده ضعيف
محمد بن دينار اختلط في آخر عمره،انظر التقريب (5870)،وفي التحرير : ’’ ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواھد ‘‘ …… إلخ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 89
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2382]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ لیٹ بھی جاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جذبات پر خوب ضبط رکھنے والے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن الترمذی/الصوم 32 (729)، (تحفة الأشراف: 1550، 15932، 17407)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 24 (1928)، سنن ابن ماجہ/الصیام 19 (1684)، موطا امام مالک/الصیام 6(18)، مسند احمد (6/230)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (698) والصوم 21 (1763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1927) صحيح مسلم (1106)
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے مہینے میں بوسہ لیتے (لے لیا کرتے) تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2383]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ماہ رمضان میں (بیویوں کا) بوسہ لے لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن الترمذی/الصیام 31 (727)، سنن ابن ماجہ/الصیام 19 (1683)، (تحفة الأشراف: 17423)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/130، 220، 256، 258، 264)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1106)
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیتے اور آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی روزے سے ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2384]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیا کرتے تھے جبکہ آپ روزے سے ہوتے اور میں بھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/134، 162، 175، 179، 296، 270) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللحديث شواھد صحيحة عند مسلم (1106)
وللحديث شواھد صحيحة عند مسلم (1106)
حدیث نمبر: 2385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ. ح وحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: هَشَشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا،" قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ". قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ وَأَنْتَ صَائِمٌ، قَالَ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ:" لَا بَأْسَ بِهِ". ثُمَّ اتَّفَقَا، قَالَ: فَمَهْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں خوش ہوا تو میں نے بوسہ لیا اور میں روزے سے تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے تو آج بہت بڑی حرکت کر ڈالی، روزے کی حالت میں بوسہ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو (تو کیا ہوا)“، میں نے کہا: اس میں تو کچھ حرج نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بس کوئی بات نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2385]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے خوشی میں آ کر (بیوی کا) بوسہ لے لیا جبکہ میں روزے سے تھا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آج ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں کہ روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا اگر تم روزے کی حالت میں کلی کر لو تو؟“ عیسیٰ بن حماد کی روایت میں ہے، میں نے کہا: ”کوئی حرج نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10422)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ الصوم (3048)، مسند احمد (1/21، 53، سنن الدارمی/الصوم 21(1765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
صححه ابن خزيمة (1999 وسنده صحيح)
صححه ابن خزيمة (1999 وسنده صحيح)